کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: جنت اور اس کے رہنے والوں کی صفَت کا بیان - ذکر جنت اور اس کے اہل کی کیفیت کا
حدیث نمبر: 7381
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، وَابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالا : حَدَّثَنَا عَبَّاسُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَجَلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي الضَّحَّاكُ الْمَعَافِرِيُّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ لأَصْحَابِهِ : " أَلا هَلْ مُشَمِّرٍ لِلْجَنَّةِ ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ لا خَطَرَ لَهَا ، هِيَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ نُورٌ يَتَلأْلأُ ، وَرَيْحَانَةٌ تَهْتَزُّ ، وَقَصْرٌ مُشَيَّدٌ ، وَنَهْرٌ مُطَّرِدٌ ، وَفَاكِهَةٌ كَثِيرَةٌ نَضِيجَةٌ ، وَزَوْجَةٌ حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ ، وَحُلَلٌ كَثِيرَةٌ فِي مَقَامٍ أَبَدًا ، فِي حَبْرَةٍ وَنَضْرَةٍ ، فِي دَارٍ عَالِيَةٍ سَلِيمَةٍ بَهِيَّةٍ " ، قَالُوا : نَحْنُ الْمُشَمِّرُونَ لَهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " قُولُوا : إِنْ شَاءَ اللَّهُ " ، ثُمَّ ذَكَرَ الْجِهَادَ وَحَضَّ عَلَيْهِ .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: کیا جنت کے لیے تیاری کرنے والا کوئی ہے؟ کیونکہ جنت ایک ایسی چیز ہے جس کی کوئی مثال نہیں ہے۔ رب کعبہ کی قسم وہ ایک ایسا نور ہے جو جھلملا رہا ہے۔ ایک ایسا پھول ہے جو لہلہا رہا ہے۔ ایک ایسا محل ہے، جو مربوط ہے۔ ایک ایسی نہر ہے جو مسلسل بہتی ہے، وہاں پھل ہیں، جو بہت زیادہ ہیں اور پکے ہوئے ہیں اور بیویاں ہیں، جو حسین و جمیل ہیں اور بہت زیادہ عمدہ لباس ہیں۔ وہ ایک ایسا مقام ہے جہاں ہمیشہ رہنا ہو گا۔ وہ جگہ سرسبز ہے، ہری بھری ہے، بلند و برتر ہے، صحیح و سالم ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کہو ان شاء اللہ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کا ذکر کیا اور اس کی ترغیب دی۔