کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ قیامت میں کون شفاعت کرے گا اور کس کے لیے شفاعت کی جائے گی
حدیث نمبر: 7377
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ حَمَّادٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلالٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَرَى رَبَّنَا ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ إِذَا كَانَ يَوْمَ صَحْوٍ ؟ " قُلْنَا : لا ، قَالَ : " هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ إِذَا كَانَ صَحْوًا ؟ " ، قُلْنَا : لا ، قَالَ : " فَإِنَّكُمْ لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّكُمْ ، إِلا كَمَا لا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَتِهِمَا ، يُنَادِي مُنَادٍ ، فَيَقُولُ : لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ ، قَالَ : فَيَذْهَبُ أَهْلُ الصَّلِيبِ مَعَ صَلِيبِهِمْ ، وَأَهْلُ الأَوْثَانِ مَعَ أَوْثَانِهِمْ ، وَأَصْحَابُ كُلِّ آلِهَةٍ مَعَ آلِهَتِهِمْ ، وَيَبْقَى مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ، وَغُبَّرَاتٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ ، ثُمَّ يُؤْتَى بِجَهَنَّمَ تُعْرَضُ كَأَنَّهَا سَرَابٌ ، فَيُقَالُ لِلْيَهُودِ : مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : كُنَّا نَعْبُدُ عُزَيْرًا ابْنَ اللَّهِ ، فَيُقَالُ : كَذَبْتُمْ مَا اتَّخَذَ اللَّهُ صَاحِبَةً ، وَلا وَلَدًا مَا تُرِيدُونَ ؟ قَالُوا : نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا ، فَيُقَالُ : اشْرَبُوا فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ ، ثُمَّ يُقَالُ لِلنَّصَارَى : مَا كُنْتُمْ تَعْبُدُونَ ؟ فَيَقُولُونَ : كُنَّا نَعْبُدُ الْمَسِيحَ ابْنَ اللَّهِ ، فَيُقَالُ : كَذَبْتُمْ لَمْ يَكُنْ لَهُ صَاحِبَةٌ ، وَلا وَلَدٌ ، مَاذَا تُرِيدُونَ ؟ قَالُوا : نُرِيدُ أَنْ تَسْقِيَنَا ، فَيُقَالُ : اشْرَبُوا ، فَيَتَسَاقَطُونَ فِي جَهَنَّمَ حَتَّى يَبْقَى مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ مِنْ بَرٍّ وَفَاجِرٍ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : مَا يَحْبِسُكُمْ وَقَدْ ذَهَبَ النَّاسُ ؟ فَيَقُولُونَ : قَدْ فَارَقْنَاهُمْ ، وَإِنَّا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِيَلْحَقْ كُلُّ قَوْمٍ بِمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ ، وَإِنَّا نَنْتَظِرُ رَبَّنَا ، قَالَ : فَيَأْتِيهِمُ الْجَبَّارُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ ، فَيَقُولُ : أَنَا رَبُّكُمْ ، فَلا يُكَلِّمُهُ إِلا نَبِيٌّ ، فَيُقَالُ : هَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ آيَةٌ تَعْرِفُونَهَا ؟ فَيَقُولُونَ : السَّاقُ ، فَيُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ ، فَيَسْجُدُ لَهُ كُلُّ مُؤْمِنٍ ، وَيَبْقَى مَنْ كَانَ يَسْجُدُ لَهُ رِيَاءً وَسُمْعَةً ، فَيَذْهَبُ يَسْجُدُ ، فَيَعُودُ ظَهْرُهُ طَبَقًا وَاحِدًا ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْجَسْرِ ، فَيُجْعَلُ بَيْنَ ظَهْرَانِي جَهَنَّمَ " ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَمَا الْجِسْرُ ؟ قَالَ : " مَدْحَضَةٌ مَزَلَّةٌ عَلَيْهِ خَطَاطِيفُ ، وَكَلالِيبُ ، وَحَسَكَةٌ مُفَلْطَحَةٌ لَهَا شَوْكٌ عُقَيْفَاءُ ، تَكُونُ بِنَجْدٍ ، يُقَالُ لَهَا : السَّعْدَانُ ، يَجُوزُ الْمُؤْمِنُ كَالطَّرْفِ ، وَكَالْبَرْقِ ، وَكَالرِّيحِ ، وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ ، وَكَالرَّاكِبِ ، فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ ، وَمَخْدُوشٌ مُسَلَّمٌ ، وَمَكْدُوسٌ فِي جَهَنَّمَ حَتَّى يَمُرَّ آخِرُهُمْ يُسْحَبُ سَحْبًا ، وَالْحَقُّ قَدْ تَبَيَّنَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، إِذَا رَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ نَجَوْا ، وَبَقِيَ إِخْوَانُهُمْ يَقُولُونَ : يَا رَبَّنَا ، إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا ، وَيَصُومُونَ مَعَنَا ، وَيَعْمَلُونَ مَعَنَا ، فَيَقُولُ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلا : اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجُوهُ ، وَيُحَرِّمُ اللَّهُ صُوَرَهُمْ عَلَى النَّارِ ، فَيَأْتُونَهُمْ وَبَعْضُهُمْ قَدْ غَابَ فِي النَّارِ إِلَى قَدَمَيْهِ ، وَإِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ، فَيَخْرُجُونَ مِنَ النَّارِ ، ثُمَّ يَعُودُونَ ثَانِيَةً ، فَيَقُولُ : اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجُوهُ ، فَيُخْرِجُونَ مِنَ النَّارِ ، ثُمَّ يَعُودُونَ الثَّالِثَةَ ، فَيُقَالُ : اذْهَبُوا ، فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ حَبَّةً إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجُوهُ فَيُخْرِجُونَ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : وَإِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي فَاقْرَءُوا قَوْلَ اللَّهِ : إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا ، " فَتَشْفَعُ الْمَلائِكَةُ ، وَالنَّبِيُّونَ ، وَالصِّدِّيقُونَ ، فَيَقُولُ الْجَبَّارُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لا إِلَهَ إِلا هُوَ : بَقِيَتْ شَفَاعَتِي ، فَيَقْبِضُ الْجَبَّارُ قَبْضَةً مِنَ النَّارِ ، فَيُخْرِجُ أَقْوَامًا قَدِ امْتُحِشُوا ، فَيُلْقَوْنَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ : الْحَيَاةُ ، فَيَنْبُتُونَ فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي حَمِيلِ السَّيْلِ ، هَلْ رَأَيْتُمُوهَا إِلَى جَانِبِ الصَّخْرَةِ ، أَوْ جَانِبِ الشَّجَرَةِ ، فَمَا كَانَ إِلَى الشَّمْسِ مِنْهَا كَانَ أَخْضَرَ ، وَمَا كَانَ إِلَى الظِّلِّ كَانَ أَبْيَضَ ، فَيَخْرُجُونَ مَثْلَ اللُّؤْلُؤَةِ ، فَيُجْعَلُ فِي رِقَابِهِمُ الْخَوَاتِيمُ ، فَيَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ أَهْلُ الْجَنَّةِ : هَؤُلاءِ عُتَقَاءُ الرَّحْمَنِ ، أَدْخَلَهُمُ اللَّهُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ عَمَلٍ عَمِلُوهُ ، وَلا قَدَمٍ قَدَّمُوهُ ، فَيُقَالُ لَهُمْ : لَكُمْ مَا رَأَيْتُمُوهُ وَمِثْلُهُ مَعَهُ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : بَلَغَنِي أَنَّ الْجِسْرَ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِ ، وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : السَّاقُ الشِّدَّةُ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب آسمان صاف ہو تو کیا تمہیں سورج کو دیکھنے میں کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے۔ ہم نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” چودھویں رات میں جب آسمان صاف ہو تو کیا چاند کو دیکھنے میں تمہیں کوئی رکاوٹ پیش آتی ہے۔ ہم نے عرض کی: جی نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر اسی طرح تمہیں اپنے پروردگار کا دیدار کرنے میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی، جس طرح ان دونوں کو دیکھنے میں تمہیں کوئی مشکل نہیں ہوتی ہے۔ ایک منادی یہ اعلان کرے گا: ہر قوم اس کے ساتھ جا کر مل جائے گی، جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے، تو صلیب کی پوجا کرنے والے صلیب کے ساتھ چلے جائیں گے۔ بتوں کی پوجا کرنے والے بتوں کے ساتھ چلے جائیں گے۔ مختلف معبودوں کے پیروکار اپنے معبودوں کے ساتھ چلے جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے نیک اور گناہ گار لوگ باقی رہ جائیں گے ان میں سے کچھ لوگوں کا تعلق اہل کتاب سے بھی ہو گا۔ پھر جہنم کو لایا جائے گا اور اسے یوں پیش کیا جائے گا جیسے وہ سیراب ہے، یہودیوں سے کہا: جائے گا: تم لوگ کس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ جواب دیں گے ہم اللہ کے بیٹے عزیر علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے، تو کہا: جائے گا: تم جھوٹ کہہ رہے ہو۔ اللہ تعالیٰ کی کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں ہے، تم کیا چاہتے ہو۔ وہ یہ کہیں گے ہم یہ چاہتے ہیں کہ تو ہمیں سیراب کر دے، تو ان سے کہا: جائے گا: تم (اس سراب میں سے) پی لو، تو وہ لوگ جہنم میں گر جائیں گے۔ عیسائیوں سے کہا: جائے گا: تم کس کی عبادت کرتے تھے۔ وہ کہیں گے: ہم اللہ کے بیٹے سیدنا مسیح علیہ السلام کی عبادت کرتے تھے، تو کہا: جائے گا: تم نے نے جھوٹ کہا: ہے۔ اس کی تو کوئی بیوی اور کوئی اولاد نہیں ہے۔ تم کیا چاہتے ہو؟ وہ کہیں گے ہم یہ کہتے ہیں تو ہمیں سیراب کر دے، تو ان سے کہا: جائے گا: تم لوگ (اس سراب میں سے) پی لو، تو وہ لوگ بھی جہنم میں گر جائیں گے، یہاں تک کہ اللہ کی عبادت کرنے والے نیک اور گناہ گار لوگ باقی رہ جائیں گے، تو ان سے کہا: جائے گا: تم لوگ کیوں رکے ہوئے ہو۔ دوسرے لوگ تو چلے گئے ہیں، تو وہ کہیں گے ہم ان سے الگ ہیں۔ ہم نے ایک منادی کو یہ اعلان کرتے ہوئے سنا کہ ہر قوم اس کے ساتھ جا کر مل جائے جس کی وہ عبادت کیا کرتے تھے، تو ہم لوگ بھی اپنے پروردگار کا انتظار کر رہے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: پھر وہ زبردست ذات ان کے پاس آئے گی جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے۔ وہ فرمائے گا میں تمہارا پروردگار ہوں اس کے ساتھ کلام صرف نبی کرے گا۔ پھر یہ کہا: جائے گا: کیا تمہارے درمیان اور اس کے درمیان کوئی نشانی ہے جس کے ذریعے تم اسے پہچان لو، تو مسلمان یہ کہیں گے: پنڈلی ہے۔ پھر پنڈلی سے پردہ ہٹایا جائے گا، تو ہر مومن شخص اس کے سامنے سجدے میں چلا جائے گا، اور وہ شخص باقی رہ جائے گا، جس نے دکھاوے اور ریاکاری کے طور پر اس کے لیے سجدہ کیا تھا وہ شخص سجدے میں جانے لگے گا لیکن اس کی پشت اکڑ جائے گی۔ پھر ایک پل لایا جائے گا اور اسے جہنم کے اوپر لگا دیا جائے گا۔ ہم نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ پل کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ پھسلنے اور گرنے کا مقام ہے۔ اس پر کانٹے، آنکڑے اور نوکیلی چیزیں ہوں گی، جیسے نجد میں موجود ایک مخصوص قسم کے پودے پر کانٹے ہوتے ہیں۔ اس پودے کو سعدان کہا: جاتا ہے کوئی مومن پلک جھپکنے میں اور کوئی برق کی طرح اور کوئی ہوا کی طرح اور کوئی تیز رفتار گھوڑے کی طرح اور کوئی سوار شخص کی طرح اس پر سے گزرے گا۔ کچھ لوگ سلامتی سے اس پر سے گزر جائیں گے۔ کچھ مخدوش ہو کر گزریں گے کچھ جہنم کے اثرات سے متاثر ہوں گے، یہاں تک کہ ان میں سے آخری شخص گھسٹتا ہوا اس پر سے گزرے گا۔ مومنین کی طرف سے حق اس وقت واضح ہو جائے گا۔ جب وہ یہ دیکھیں گے کہ وہ نجات پا گئے ہیں، اور ان کے کچھ بھائی باقی رہ گئے ہیں، جو یہ کہہ رہے ہیں اے ہمارے پروردگار یہ ہمارے بھائی ہیں یہ ہمارے ساتھ نماز پڑھا کرتے تھے ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ عمل کرتے تھے، تو پروردگار فرمائے گا: تم جاؤ اور تمہیں جس کے دل میں ایک دینار کے وزن جتنا ایمان ملتا ہے، اسے (جہنم میں سے) نکال لو، تو اللہ تعالیٰ ان کی صورتوں کو جہنم کے لیے حرام قرار دیدے گا۔ وہ لوگ اپنے بھائیوں کے پاس آئیں گے۔ جن میں سے بعض لوگ جہنم میں پاؤں تک گم ہوں گے بعض نصف پنڈلی تک ہوں گے۔ پھر وہ جہنم سے نکلیں گے۔ پھر وہ دوبارہ اس میں آئیں گے۔ پھر وہ فرمائے گا: تم لوگ جاؤ تمہیں جس کے دل میں نصف دینار کے وزن جتنا ایمان ملتا ہے اسے (جہنم سے) باہر نکال لو، تو وہ جہنم سے (ایسے لوگوں کو) باہر نکالیں گے پھر وہ تیسری مرتبہ آئیں گے، کہا: جائے گا تم جاؤ اور جس کے دل میں دانے کے وزن جتنا ایمان تمہیں ملتا ہے اسے (جہنم سے) نکال لو، تو وہ لوگ انہیں نکال لیں گے۔
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر تم لوگ میری بات کو سچ نہیں سجھتے تو تم یہ آیت تلاوت کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ” بے شک اللہ تعالیٰ ذرے کے وزن جتنا بھی ظلم نہیں کرے گا۔ اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے کئی گنا کر دے گا اور وہ اپنی طرف سے عظیم اجر بھی عطا کرے گا۔ “ فرشتے، انبیاء، صدیقین شفاعت کریں گے۔ پھر زبردست ذات جو برکت والی اور بلند و برتر ہے اور جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ یہ فرمائے گا اب میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ پھر جبار (اللہ تعالیٰ) ایک مٹھی بھر لوگ جہنم سے نکالے گا، وہ ان لوگوں کو نکالے گا جو جل کر کوئلہ ہو چکے تھے اور انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا، جس کا نام نہر حیات ہے، تو وہ اس میں یوں پھوٹ پڑیں گے جیسے سیلابی پانی کی گزرگاہ میں دانا پھوٹ پڑتا ہے۔ کیا تم نے چٹان کے کنارے پر یا درخت کے کنارے پر اسے دیکھا ہے، اس کا جو حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے وہ سبز ہوتا ہے، جو حصہ سائے کی طرف ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے، تو وہ لوگ موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے۔ ان کے گلے میں انگوٹھیاں ڈال دی جائیں گی۔ وہ جنت میں داخل ہوں گے، تو اہل جنت یہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں رحمان نے (جہنم سے) آزاد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کیے ہوئے کسی عمل کے بغیر جنت میں داخل کر دے گا، جو ان کی بھیجی ہوئی کسی چیز کے بغیر ہو گا ان سے کہا: جائے گا: تم جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ تم کو ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے ” کہ پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہو گا۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ ساق سے مراد شدت ہے (یعنی معاملہ سخت ہو جائے گا)
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر تم لوگ میری بات کو سچ نہیں سجھتے تو تم یہ آیت تلاوت کر لو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ” بے شک اللہ تعالیٰ ذرے کے وزن جتنا بھی ظلم نہیں کرے گا۔ اگر کوئی نیکی ہو گی تو وہ اسے کئی گنا کر دے گا اور وہ اپنی طرف سے عظیم اجر بھی عطا کرے گا۔ “ فرشتے، انبیاء، صدیقین شفاعت کریں گے۔ پھر زبردست ذات جو برکت والی اور بلند و برتر ہے اور جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ یہ فرمائے گا اب میری شفاعت باقی رہ گئی ہے۔ پھر جبار (اللہ تعالیٰ) ایک مٹھی بھر لوگ جہنم سے نکالے گا، وہ ان لوگوں کو نکالے گا جو جل کر کوئلہ ہو چکے تھے اور انہیں ایک نہر میں ڈالا جائے گا، جس کا نام نہر حیات ہے، تو وہ اس میں یوں پھوٹ پڑیں گے جیسے سیلابی پانی کی گزرگاہ میں دانا پھوٹ پڑتا ہے۔ کیا تم نے چٹان کے کنارے پر یا درخت کے کنارے پر اسے دیکھا ہے، اس کا جو حصہ سورج کی طرف ہوتا ہے وہ سبز ہوتا ہے، جو حصہ سائے کی طرف ہوتا ہے وہ سفید ہوتا ہے، تو وہ لوگ موتیوں کی طرح چمکتے ہوئے نکلیں گے۔ ان کے گلے میں انگوٹھیاں ڈال دی جائیں گی۔ وہ جنت میں داخل ہوں گے، تو اہل جنت یہ کہیں گے یہ وہ لوگ ہیں جنہیں رحمان نے (جہنم سے) آزاد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ان کے کیے ہوئے کسی عمل کے بغیر جنت میں داخل کر دے گا، جو ان کی بھیجی ہوئی کسی چیز کے بغیر ہو گا ان سے کہا: جائے گا: تم جو کچھ دیکھ رہے ہو وہ تم کو ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے ” کہ پل صراط بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہو گا۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) لفظ ساق سے مراد شدت ہے (یعنی معاملہ سخت ہو جائے گا)