کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس بیان کا کہ قیامت میں شفاعت انبیاء کے علاوہ دوسروں کے لیے بھی ہو سکتی ہے
حدیث نمبر: 7376
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ : جَلَسْتُ إِلَى قَوْمٍ أَنَا رَابِعُهُمْ ، فَقَالَ أَحَدُهُمْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ بِشَفَاعَةِ رَجُلٍ مِنْ أُمَّتِي أَكْثَرُ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ " ، قَالَ : سِوَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " سِوَايَ " ، قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، فَلَمَّا قَامَ ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا ؟ قَالُوا : ابْنُ الْجَدْعَاءِ، أَوِ ابْنُ أَبِي الْجَدْعَاءِ .
عبدالله بن شقیق بیان کرتے ہیں: میں کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ میں ان میں سے چوتھا فرد تھا (یعنی میرے علاوہ تین افراد اور تھے) ان میں سے ایک نے یہ کہا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ” میری امت کے ایک فرد کی شفاعت کی وجہ سے بنو تمیم کی تعداد سے زیادہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے۔ سائل نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہ شخص آپ کے علاوہ کوئی اور ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے علاوہ ہو گا۔ “ عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا۔ کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے، تو ان صاحب نے جواب دیا: جی ہاں۔ جب وہ صاحب اٹھ گئے تو میں نے دریافت کیا: یہ کون صاحب تھے؟ لوگوں نے بتایا: یہ ابن جذعاء تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ابن ابوجذعاء تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7376
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2178). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح (*) قال محمود خليل: قال ابن حَجَر: عَبد الله بن أبي الجَذعاء، بفتح الجيم، وسُكون المُعجمة. "تقريب التهذيب" 1/ 298.
تخریج حدیث «0»