کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ انسان قیامت میں اپنے چہرے کو آگ سے دنیا میں اچھے کلمات سے بچائے گا جب صدقہ کی استطاعت نہ ہو
حدیث نمبر: 7374
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ الْعَسْكَرِيُّ بِالرَّقَّةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعْدَانُ بْنُ بِشْرٍ الْجُهَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو مُجَاهِدٍ الطَّائِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحِلُّ بْنُ خَلِيفَةَ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ إِلَيْهِ رَجُلانِ يَشْكُو أَحَدُهُمَا الْعَيْلَةَ ، وَيَشْكُو الآخَرُ قَطْعَ السَّبِيلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَمَّا قَطْعُ السَّبِيلِ : فَلا يَأْتِي عَلَيْكَ إِلا قَلِيلٌ حَتَّى تَخْرُجَ الْعِيرُ مِنَ الْحِيرَةِ إِلَى مَكَّةَ بِغَيْرِ خَفِيرٍ ، وَأَمَّا الْعَيْلَةُ : فَإِنَّ السَّاعَةَ لا تَقُومُ حَتَّى يَخْرُجَ الرَّجُلُ بِصَدَقَةِ مَالِهِ ، فَلا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُهَا مِنْهُ ، ثُمَّ لَيَقِفَنَّ أَحَدُكُمْ بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ لَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ حِجَابٌ يَحْجُبُهُ ، وَلا تُرْجُمَانٌ يُتَرْجِمُ لَهُ ، فَيَقُولَنَّ لَهُ : أَلَمْ أُوتِكَ مَالا ؟ فَلَيَقُولَنَّ : بَلَى ، فَيَقُولُ : أَلَمْ أُرْسِلْ إِلَيْكَ رَسُولا ؟ فَلَيَقُولَنَّ : بَلَى ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ يَمِينِهِ ، فَلا يَرَى إِلا النَّارَ ، ثُمَّ يَنْظُرُ عَنْ شِمَالِهِ ، فَلا يَرَى إِلا النَّارَ ، فَلْيَتَّقِ أَحَدُكُمُ النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا۔ دو آدمی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان میں سے ایک نے تنگدستی کی شکایت کی اور دوسرے نے لوٹ مار کی شکایت کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جہاں تک لوٹ مار کا تعلق ہے تو تھوڑے ہی عرصے کے بعد تم پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ایک قافلہ حیرہ سے روانہ ہو گا اور مکہ تک آ جائے گا اور اسے کوئی خطرہ نہیں ہو گا۔ جہاں تک تنگدستی کا تعلق ہے، تو قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک کوئی شخص اپنے مال کی زکوۃ لے کر نکلے گا نہیں اور پھر اسے کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا، جو اس سے اس زکوۃ کو قبول کر لے۔ تم میں سے ہر شخص کو اللہ کی بارگاہ میں کھڑا کیا جائے گا اس شخص اور اللہ کی بارگاہ کے درمیان کوئی حجاب نہیں ہو گا جو رکاوٹ بن رہا ہو۔ کوئی ترجمان نہیں ہو گا جو درمیان میں واسطہ ہو تو پروردگار اس سے فرمائے گا کیا میں نے تمہیں مال عطا نہیں کیا تھا؟ تو وہ جواب دے گا جی ہاں۔ پروردگار فرمائے گا کیا میں نے تمہاری طرف رسول کو نہیں بھیجا تھا۔ وہ بندہ عرض کرے گا جی ہاں پھر وہ شخص اپنے دائیں طرف دیکھے گا تو اسے جہنم نظر آئے گی۔ وہ بائیں طرف دیکھے گا تو اسے صرف جہنم نظر آئے گی، تو تم میں سے ہر ایک شخص کو جہنم سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے خواہ وہ نصف کھجور کے ذریعے ایسا کرے اور اگر یہ بھی نہیں ملتی، تو پاکیزہ بات کے ذریعے (جہنم سے بچنے کی کوشش کرے)