کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس عرض کی کیفیت کا جو قیامت میں اس کے لیے ہوگا جس کے اعمال پر تنقید نہ ہوئی
حدیث نمبر: 7372
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " اللَّهُمَّ حَاسِبْنِي حِسَابًا يَسِيرًا " ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا الْحِسَابُ الْيَسِيرُ ؟ قَالَ : " أَنْ يَنْظُرَ فِي سَيِّئَاتِهِ وَيَتَجَاوَزُ لَهُ عَنْهَا ، إِنَّهُ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ يَوْمَئِذٍ هَلَكَ ، وَكُلُّ مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ يُكَفِّرُ عَنْهُ مِنْ سَيِّئَاتِهِ ، حَتَّى الشَّوْكَةُ تَشُوكُهُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ” اے اللہ مجھ سے آسان حساب لینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آسان حساب سے مراد کیا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (اس سے مراد یہ ہے) کہ آدمی کے نامہ اعمال کی طرف پروردگار دیکھے اور پھر اس کے گناہوں سے درگزر کرے کیونکہ اس دن جس شخص سے حساب لیا جائے گا وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔ مومن کو جو بھی مصیبت لاحق ہوتی ہے وہ اس کے گناہوں کو ختم کر دیتی ہے، یہاں تک کہ اسے جو کانٹا لگتا ہے (وہ بھی اس کے گناہوں کو ختم کرتا ہے) “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7372
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «ضعيف أبي داود» (557). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط Null
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7328»