کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف عثمان بن الاسود نے روایت کی
حدیث نمبر: 7371
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ، قَالَ : " ذَاكَ الْعَرْضُ لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلا هَلَكَ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! (ارشاد باری تعالیٰ ہے:) ” جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں عطا کیا جائے گا۔ اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد پیش کرنا ہے۔ ورنہ قیامت کے دن جس شخص سے حساب لیا جائے گا۔ وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔