کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس بات کی تصدیق کا کہ قیامت میں جس کا حساب دقیق ہوگا وہ ہلاک ہوگا، ہم اللہ سے اس سے پناہ مانگتے ہیں
حدیث نمبر: 7370
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الأَسْوَدِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ " ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ : فَأَمَّا مَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا ، قَالَ : " ذَاكَ الْعَرْضُ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا۔ ” جس شخص سے حساب لیا جائے گا۔ وہ ہلاکت کا شکار ہو جائے گا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے۔ ” جس شخص کا نامہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے آسان حساب لیا جائے گا۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مراد پیش کرنا ہے۔