کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ رب تعالیٰ قیامت میں اپنے بندے سے دنیا میں لوگوں کے لیے کھانے پینے کی چیزوں کے خرچ کے بارے میں سوال کرے گا
حدیث نمبر: 7366
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقُولُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : يَا ابْنَ آدَمَ ، اسْتَطْعَمْتُكَ ، فَلَمْ تُطْعِمْنِي " ، قَالَ : " فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَكَيْفَ اسْتَطْعَمْتَنِي وَلَمْ أُطْعِمْكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ قَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلانًا اسْتَطْعَمَكَ فَلَمْ تُطْعِمْهُ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ ، لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، اسْتَسْقَيْتُكَ ، فَلَمْ تَسْقِنِي ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَكَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيَ فُلانًا اسْتَسْقَاكَ ، فَلَمْ تَسْقِهِ ، أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيَ فُلانًا لَوْ سَقَيْتَهُ ، لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ يَا ابْنَ آدَمَ ، مَرِضْتُ ، فَلَمْ تَعُدْنِي ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، وَكَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ ؟ فَقَالَ : أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِيَ فُلانًا مَرِضَ ، فَلَوْ كُنْتَ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي ؟ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ” اے آدم کے بیٹے میں نے تم سے کھانے کے لیے مانگا تھا، تو نے مجھے کھلایا نہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار تو مجھ سے کیسے کھانا مانگ سکتا ہے اور میں تجھے کیسے کھانا کھلا سکتا ہوں، جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ پروردگار فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانے کے لیے مانگا تھا، تم نے اسے کھلایا نہیں تھا۔ کیا تمہیں پتہ نہیں ہے کہ اگر تم اسے کھلا دیتے (اس کا اجر و ثواب) میرے پاس پا لیتے۔ اے آدم کے بیٹے میں نے تم سے پینے کے لیے مانگا تھا، تم نے مجھے پلایا نہیں تھا۔ بندہ کہے گا: اے میرے پروردگار! میں تجھے کیسے پلا سکتا ہوں جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تو پروردگار فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے فلاں بندے نے تم سے پینے کے لیے مانگا تھا۔ تم نے اسے پلایا نہیں تھا۔ کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ اگر میرے فلاں بندے کو تم نے پلا دیا ہوتا تو (اس کا اجر و ثواب) میرے پاس پا لیتے۔ اے آدم کے بیٹے میں بیمار ہوا تھا، لیکن تم نے میری عیادت نہیں کی۔ بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں تیری عیادت کیسے کر سکتا ہوں جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تو پروردگار فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا، اگر تم اس کی عیادت کر لیتے تو (اس کا اجر و ثواب) میرے پاس پا لیتے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7366
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - تقدم (269). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7322»