کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ رب تعالیٰ قیامت میں اپنے بندے سے اس کے سماعت، بصارت، مال اور اولاد کے بارے میں سوال کرے گا
حدیث نمبر: 7365
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ بِسْطَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّ أَحَدَكُمْ لاقِي اللَّهَ جَلَّ وَعَلا ، فَقَائِلٌ مَا أَقُولُ : أَلَمْ أَجْعَلْكَ سَمِيعًا بَصِيرًا ؟ أَلَمْ أَجْعَلْ لَكَ مَالا وَوَلَدًا ؟ فَمَاذَا قَدَّمْتَ ؟ فَيَنْظُرُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ ، وَمِنْ خَلْفِهِ ، وَعَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، فَلا يَجِدُ شَيْئًا ، فَلا يَتَّقِي النَّارَ إِلا بِوَجْهِهِ ، فَاتَّقُوا النَّارَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا ، فَبِكَلِمَةٍ طَيِّبَةٍ " .
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” تم میں سے کوئی ایک شخص جب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو ایک کہنے والا یہ کہے گا: کیا میں نے تمہارے لیے سماعت اور بصارت نہیں بنائی تھی۔ کیا میں نے تمہیں مال اور اولاد عطا نہیں کیا تھا، تو پھر تم نے کیا عمل کیا۔ وہ شخص اپنے آگے اپنے پیچھے اپنے دائیں اپنے بائیں دیکھے گا، تو اسے کوئی چیز نہیں ملے گی۔ وہ صرف اپنے چہرے کے ذریعے جہنم سے بچ سکے گا، تو تم لوگ جہنم سے بچنے کی کوشش کرو۔ خواہ نصف کھجور کے ذریعے کرو، اور اگر یہ بھی نہیں پاتے تو پاکیزہ بات کے ذریعے جہنم سے بچنے کی کوشش کرو۔ “