کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس بیان کا کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں مومنین کا حساب کرتے وقت انہیں لوگوں سے پردہ کرے گا تاکہ کسی کا عمل کوئی نہ دیکھے
حدیث نمبر: 7356
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ الْمَازِنِيِّ ، قَالَ : بَيْنَمَا أَنَا آخِذٌ بِيَدِ ابْنِ عُمَرَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُدْنِي الْمُؤْمِنَ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حَتَّى يَضَعَ كَنَفَهُ عَلَيْهِ ، فَيَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ ، فَيَقُولُ : أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا وَكَذَا ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، فَيَقُولُ : أَتَعْرِفُ ذَنْبَ كَذَا وَكَذَا ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، حَتَّى إِذَا قَرَّرَهُ بِذُنُوبِهِ ، وَظَنَّ فِي نَفْسِهِ أَنَّهُ قَدِ اسْتَوْجَبَ ، قَالَ : قَدْ سَتَرْتُهَا عَلَيْكَ مِنَ النَّاسِ ، وَإِنِّي أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ ، وَيُعْطَى كِتَابَ حَسَنَاتِهِ ، وَأَمَّا الْكُفَّارُ وَالْمُنَافِقُونَ ، فَيَقُولُ الأَشْهَادُ : هَؤُلاءِ الَّذِينَ كَذَبُوا عَلَى رَبِّهِمْ أَلا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ " .
سیدنا صفوان بن محرز مازنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھاما ہوا تھا۔ اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور بولا: آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کے دن سرگوشی کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب کرے گا، یہاں تک کہ اسے پردے میں کر لے گا اور اسے لوگوں سے چھپا لے گا۔ پھر وہ فرمائے گا: کیا تم فلاں فلاں گناہ کو پہچانتے ہو؟ وہ عرض کرے گا: جی ہاں میرے پروردگار۔ وہ فرمائے گا: کیا تم فلاں فلاں گناہ کو پہچانتے ہو۔ وہ عرض کرے گا جی ہاں میرے پروردگار، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس شخص سے اس کے گناہوں کا اعتراف کروائے گا اور وہ شخص یہ گمان کرے گا اب اس کے لیے (جہنم) واجب ہو چکی ہے۔ پروردگار فرمائے گا: میں نے لوگوں سے تمہیں پردے میں رکھا اور آج میں تمہارے ان گناہوں کی مغفرت کرتا ہوں پھر اس شخص کو اس کی نیکیوں کی کتاب دے دی جائے گی۔ جہاں تک کفار اور منافقین کا تعلق ہے، تو انہیں تمام لوگوں کے سامنے کہا: جائے گا۔ “ ” یہ وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے پروردگار کی طرف جھوٹی بات منسوب کی۔ خبردار! ظالم لوگوں پر اللہ کی لعنت ہے۔ “