کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ قیامت کے دن کافروں میں سے کتنے جہنم کے لیے اٹھائے جائیں گے
حدیث نمبر: 7353
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلا ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : إِنَّكَ تَقُولُ : إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لا أُحَدِّثَكُمْ بِشَيْءٍ ، إِنَّمَا قُلْتُ : إِنَّكُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي ، فَيَمْكُثُ فِيهِمْ أَرْبَعِينَ ، لا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً ، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ إِلَيْهِمْ عِيسَى بْنَ مَرْيَمَ ، كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ ، فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ بَعْدَهُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ رِيحًا مِنْ قِبَلِ الشَّامِ ، فَلا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، إِلا قَبَضَتْهُ ، حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ كَانَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْ عَلَيْهِ " ، قَدْ سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " وَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ ، وأحلامِ السِّباعِ ، لا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا ، وَلا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا ، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ ، فَيَأْمُرُهُمْ بِالأَوْثَانِ فَيَعْبُدُونَهَا ، وَفِي ذَلِكَ دَارَّةٌ أَرْزَاقُهُمْ ، حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ، فَلا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلا أَصْغَى ، ثُمَّ لا يَبْقَى أَحَدٌ ، إِلا صَعِقَ ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوِ الظِّلُّ ، النُّعْمَانُ يَشُكُّ ، فَتَنْبُتُ مَعَهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى ، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ، ثُمَّ يُقَالُ : أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمُّوا إِلَى رَبِّكِمْ : وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ ، ثُمَّ يُقَالُ : أَخْرِجُوا مِنْ بَعْثِ أَهْلِ النَّارِ ، فَيُقَالُ : كَمْ ؟ فَيُقَالُ : مِنْ كُلُّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ، فَيَوْمَئِذٍ يُبْعَثُ الْوِلْدَانُ شِيبًا ، وَيَوْمَئِذٍ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ " ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مِرَارًا ، وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ .
یعقوب بن عاصم بیان کرتے ہیں: میں نے ایک شخص کو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے ہوئے سنا۔ آپ یہ کہتے ہیں: قیامت اتنے اتنے عرصے کے لیے قائم ہو گی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پہلے میں نے یہ ارادہ کیا تھا کہ میں تمہیں کوئی حدیث بیان نہیں کروں گا لیکن پھر میں نے سوچا کہ تم تھوڑے ہی عرصے کے بعد ایک بڑا واقعہ دیکھو گے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” میری امت میں دجال نکلے گا وہ لوگوں میں چالیس تک رہے گا (راوی کہتے ہیں:) لیکن مجھے نہیں معلوم اس سے مراد چالیس دن ہیں یا چالیس سال ہیں یا چالیس راتیں ہیں یا چالیس مہینے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو اس کی طرف بھیجے گا۔ ان کی شکل عروہ بن مسعود ثقفی کی طرح ہو گی وہ اسے تلاش کر کے اسے ہلاک کر دیں گے پھر اس کے بعد سات سال تک لوگوں کے درمیان رہیں گے۔ اس دوران دو آدمیوں کے درمیان کوئی دشمنی نہیں ہو گی پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ہوا بھیجے گا۔ کوئی ایسا شخص زندہ نہیں رہے گا، جس میں رائی کے دانے جتنا ایمان ہو۔ وہ ہوا اس کی روح کو قبض کر لے گی، یہاں تک کہ اگر کوئی شخص کسی پہاڑ کی غار میں ہو گا تو ہوا اس تک بھی پہنچ جائے گی۔
(سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات بھی سنی ہے پھر برے لوگ پرندے کے ٹھکانوں اور درندوں کی کچھاروں میں باقی رہ جائیں گے وہ نیکی سے واقف نہیں ہوں گے اور برائی کو برائی نہیں سمجھیں گے۔ شیطان ان کے سامنے انسانی شکل میں آئے گا اور انہیں بتوں کی عبادت کرنے کا حکم دے گا، تو وہ ان کی عبادت شروع کر دیں گے۔ اس وقت میں ان کا رزق عمدہ ہو گا۔ ان کی زندگی بظاہر عمدہ ہو گی پھر صور میں پھونک ماری جائے گی، جو بھی اسے سنے گا وہ گر جائے گا پھر کوئی بھی شخص باقی نہیں رہے گا ہر شخص مر جائے گا پھر اللہ تعالیٰ ایک بارش کو بھیجے گا جو ہلکی ہو گی۔ یہاں پر نعمان نامی راوی کو شک ہے، یا موسلا دھار ہو گی، اس بارش کے ہمراہ لوگوں کے جسم اگنا شروع ہوں گے۔ پھر صور میں دوبارہ پھونک ماری جائے گی، تو وہ لوگ کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے۔ پھر یہ کہا: جائے گا: اے لوگو! اپنے پروردگار کی طرف چل پڑو۔
” (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ان لوگوں کو روک لو ان سے حساب لیا جائے گا۔ “ پھر یہ کہا: جائے گا: ان میں سے جہنم میں جانے والے لوگوں کو نکال لو۔ پھر دریافت کیا جائے گا: کتنوں کو؟ تو یہ کہا: جائے گا: ایک ہزار میں سے نو سو ننانوے افراد کو۔
(نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) اس دن بچوں کو بزرگوں کی شکل میں زندہ کیا جائے گا اور اس دن پنڈلی سے پردہ ہٹ جائے گا (یعنی معاملہ سخت ہو گا)۔
محمد بن جعفر نامی راوی کہتے ہیں: شعبہ نے یہ حدیث کئی مرتبہ ہمیں بیان کی ہے اور کئی مرتبہ میں نے بھی یہ ان کے سامنے پڑھی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7353
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «قصة المسيح الدجال» (72): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7309»