کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ اللہ تعالیٰ آخرت میں کافر کو اس کے دنیاوی پھل کی وجہ سے سرزنش کرے گا
حدیث نمبر: 7350
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، وَعَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُؤْتَى بِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ النَّارِ ، فَيَقُولُ لَهُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، كَيْفَ وَجَدْتَ مَنْزِلَكَ ؟ فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، شَرَّ مَنْزِلٍ ، فَيَقُولُ : أَتَفْتَدِي مِنْهُ بِطِلاعِ الأَرْضِ ذَهَبًا ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ أَيْ رَبِّ ، فَيَقُولُ : كَذَبْتَ ، قَدْ سُئِلْتَ مَا هُوَ أَهْوَنُ مِنْ ذَلِكَ ، فَيُرَدُّ إِلَى النَّارِ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اہل جہنم میں سے ایک شخص کو لایا جائے گا تو پروردگار اسے فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے تم نے اپنے ٹھکانے کو کیسا پایا۔ وہ کہے گا: اے پروردگار سب سے برا ٹھکانہ ہے۔ پروردگار فرمائے گا: کیا تم اس کے عوض میں تمام روئے زمین جتنا سونا فدیے کے طور پر دینے کے لیے تیار ہو۔ وہ کہے گا جی ہاں میرے پروردگار۔ تو پروردگار فرمائے گا: تم جھوٹ بول رہے ہو۔ تم سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا (لیکن تم نے اس پر عمل نہیں کیا) پھر اسے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7350
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (172 و 3008)، «الظلال» (99): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7306»
حدیث نمبر: 7351
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يُقَالُ لِلْكَافِرِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ : أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ لَكَ مِلْءُ الأَرْضِ ذَهَبًا أَكُنْتَ تَفْتَدِي بِهِ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيُقَالُ : قَدْ سُئِلْتَ أَيْسَرَ مِنْ ذَلِكَ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن کافر سے کہا: جائے گا: تمہارا کیا خیال ہے؟ اگر تمہارے پاس زمین جتنا سونا ہوتا تو کیا تم فدیے کے طور پر وہ دے دیتے؟ وہ جواب دے گا جی ہاں، تو اسے کہا: جائے گا: تم سے اس سے زیادہ آسان چیز کا مطالبہ کیا گیا تھا، لیکن تم نے اس پر عمل نہیں کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7351
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7307»