کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس کیفیت کا کہ قیامت میں کچھ لوگوں کا خصم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہوگا
حدیث نمبر: 7339
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ إِسْمَاعِيلَ بْنَ أُمَيَّةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلاثَةٌ أَنَا خَصْمُهُمْ فِي الْقِيَامَةِ ، وَمَنْ كُنْتُ خَصْمَهُ أَخْصِمْهُ : رَجُلٌ أَعْطَى بِي ثُمَّ غَدَرَ ، وَرَجُلٌ بَاعَ حُرًّا فَأَكَلَ ثَمَنَهُ ، وَرَجُلٌ اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا فَاسْتَوْفَى مِنْهُ وَلَمْ يُوفِهِ أَجْرَهُ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” تین لوگ ایسے ہیں جن کا قیامت کے دن میں مقابل فریق ہو گا اور جس کا میں مقابل فریق ہوں گا ان کا میں مقابلہ کر لوں گا۔ ایک وہ شخص جو میرے نام پر (کسی کو پناہ دے) اور پھر اس کی خلاف ورزی کرے۔ ایک وہ شخص جو کسی آزاد شخص کو فروخت کر کے اس کی قیمت کھا جائے اور ایک وہ شخص جو کسی کو مزدور رکھے اس سے کام پورا لے لیکن اس کا معاوضہ پورا نہ دے۔ “