کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ قیامت کے دن لوگوں کے پسینہ میں تفاوت کی کیفیت
حدیث نمبر: 7329
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا عُشَّانَةَ حَدَّثَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " تَدْنُو الشَّمْسُ مِنَ الأَرْضِ ، فَيَعْرَقُ النَّاسُ ، فَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَبْلُغُ عَرَقُهُ كَعْبَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى نِصْفِ السَّاقِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى الْعَجُزِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ إِلَى الْخَاصِرَةِ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ عُنُقَهُ ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَبْلُغُ وَسَطَ فِيهِ " ، وَأَشَارَ بِيَدِهِ ، فَأَلْجَمَ فَاهُ ، قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ هَكَذَا ، وَمِنْهُمْ مَنْ يُغَطِّيهِ عَرَقُهُ ، وَضَرَبَ بِيَدِهِ إِشَارَةً .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے۔ ” (قیامت کے دن) سورج زمین کے قریب ہو جائے گا اور لوگ پسینے میں ڈوب جائیں گے۔ کچھ لوگوں کا پسینہ ان کے ٹخنوں تک آ رہا ہو گا۔ کچھ کا نصف پنڈلی تک آ رہا ہو گا۔ کچھ کا گھٹنوں تک آ رہا ہو گا۔ کچھ کا پیٹ کے نچلے حصے تک آ رہا ہو گا۔ کچھ کا پہلو تک آ رہا ہو گا اور کچھ کا گردن تک آ رہا ہو گا۔ کچھ کا اس کے درمیان تک آ رہا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کو منہ کی طرف لے جا کر اشارہ کر کے بتایا۔ “
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس طرح اشارہ کیا۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا پسینہ انہیں ڈہو چکا ہو گا۔ اسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے اس طرح اشارہ کیا۔ ان میں سے کچھ لوگوں کا پسینہ انہیں ڈہو چکا ہو گا۔ اسے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے بتایا۔