کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ اللہ تعالیٰ قیامت میں اپنی تمام مخلوق کے ساتھ کیا کرے گا
حدیث نمبر: 7325
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْمَاءَ وَالثَّرَى عَلَى إِصْبَعٍ ، وَالْخَلائِقَ كُلَّهَا عَلَى إِصْبَعٍ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا الْمَلِكُ ، " فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ " ، ثُمَّ قَرَأَ هَذِهِ الآيَةَ : وَمَا قَدَرُوا اللَّهَ حَقَّ قَدْرِهِ وَالأَرْضُ جَمِيعًا قَبْضَتُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَالسَّمَوَاتُ مَطْوِيَّاتٌ بِيَمِينِهِ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يُشْرِكُونَ " .
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اہل کتاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی: بے شک اللہ تعالیٰ آسمانوں کو اپنی ایک انگلی میں پکڑے گا۔ پانی کو اور زمین کو اپنی ایک انگلی پر رکھے گا اور تمام مخلوقات کو اپنی ایک انگلی پر رکھے گا اور پھر یہ فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں۔
(راوی بیان کرتے ہیں:) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے۔ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت کی۔ ” انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حقیقی قدر نہیں کی قیامت کے دن تمام زمین اس کے قبضہ قدرت میں ہو گی اور آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔ اس کی ذات اس چیز سے پاک ہے اور بلند و برتر ہے، جو وہ شرک کرتے ہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7325
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (541). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7281»