کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا کہ اللہ تعالیٰ قیامت میں آسمانوں اور زمینوں کے ساتھ کیا کرے گا
حدیث نمبر: 7324
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ : " يَأْخُذُ اللَّهُ سَمَاوَاتِهِ وَأَرَضِيهِ بِيَدِهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : أَنَا اللَّهُ ، وَيَقْبِضُ أَصَابِعَهُ ، وَيَبْسُطُهَا ، أَنَا الرَّحْمَنُ ، أَنَا الْمَلِكُ " ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ مِنْهُ ، حَتَّى إِنِّي لأَقُولُ : أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ " يَقْبِضُ أَصَابِعَهُ ، وَيَبْسُطُهَا " ، يُرِيدُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا اللَّهَ جَلَّ وَعَلا .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر ارشاد فرمایا: ” اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمینوں کو اپنے دست قدرت میں پکڑے گا پھر فرمائے گا میں اللہ ہوں پھر وہ اپنی انگلیوں کو بند کرے گا پھر انہیں کھولے گا پھر فرمائے گا میں رحمن ہوں میں بادشاہ ہوں۔ “ (راوی بیان کرتے ہیں:) یہاں تک کہ میں نے منبر کی طرف دیکھا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نیچے ڈول رہا تھا، یہاں تک کہ میں سوچنے لگا کہ یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت گر تو نہیں جائے گا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ: ” وہ اپنی انگلیوں کو بند کر رہے تھے اور کھول رہے تھے۔ “ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں، اللہ تعالیٰ مراد نہیں ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے یہ الفاظ: ” وہ اپنی انگلیوں کو بند کر رہے تھے اور کھول رہے تھے۔ “ اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں، اللہ تعالیٰ مراد نہیں ہے۔