کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس خبر کا جو بعض عالموں کو یہ وہم دلا سکتا ہے کہ باطن کا حکم ظاہر کے حکم جیسا ہے
حدیث نمبر: 7316
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمَيِّتُ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ عَلَيْهِ السَّلامُ : " الْمَيِّتُ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا " ، أَرَادَ بِهِ فِي أَعْمَالِهِ كَقَوْلِهِ جَلَّ وَعَلا : وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ يُرِيدُ بِهِ : وَأَعْمَالَكَ فَأَصْلِحْهَا ، لا أَنَّ الْمَيِّتَ يُبْعَثُ فِي ثِيَابِهِ الَّتِي قُبِضَ فِيهَا ، إِذِ الأَخْبَارُ الْجَمَّةُ تُصَرِّحُ عَنِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَنَّ النَّاسَ يُحْشَرُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلا .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” میت کو اس کے انہی کپڑوں میں زندہ کیا جائے گا، جس میں انتقال ہوا تھا۔ “
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: میت کو اس کے انہی کپڑوں میں زندہ کیا جائے گا جس میں انتقال ہوا تھا۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد میت کے اعمال ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” اور تم اپنے کپڑوں کو پاک کرو “ اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ اپنے اعمال کو پاک کرو اور اسے ٹھیک کرو۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ میت کو انہی کپڑوں میں زندہ کیا جائے گا، جن کپڑوں میں اس کا انتقال ہوا تھا۔ کیونکہ تمام تر روایات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس بات کی صراحت موجود ہے کہ لوگوں کو قیامت کے دن برہنہ پاؤں اور برہنہ جسم اور ختنوں کے بغیر اٹھایا جائے گا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: میت کو اس کے انہی کپڑوں میں زندہ کیا جائے گا جس میں انتقال ہوا تھا۔ اس کے ذریعے آپ کی مراد میت کے اعمال ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ ” اور تم اپنے کپڑوں کو پاک کرو “ اس کے ذریعے مراد یہ ہے کہ اپنے اعمال کو پاک کرو اور اسے ٹھیک کرو۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ میت کو انہی کپڑوں میں زندہ کیا جائے گا، جن کپڑوں میں اس کا انتقال ہوا تھا۔ کیونکہ تمام تر روایات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اس بات کی صراحت موجود ہے کہ لوگوں کو قیامت کے دن برہنہ پاؤں اور برہنہ جسم اور ختنوں کے بغیر اٹھایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 7317
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ مِنْ لَفْظِهِ بِبُسْتٍ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ : وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ، قَالَ " وَعَمَلَكَ فَأَصْلِحْ " .
ابراہیم فرماتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ” اور تم اپنے کپڑے کو پاک کرو “ وہ کہتے ہیں: اس سے مراد یہ ہے کہ اپنے عمل کو ٹھیک کرو۔