کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر کے بارے میں کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جانے اور اس دن لوگوں کے حالات کیسے ہوں گے - ذکر اس بیان کا کہ خلق قیامت کے دن اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے
حدیث نمبر: 7314
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ الرَّقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَنْزَلَ سَطْوَتَهُ بِأَهْلِ الأَرْضِ وَفِيهِمُ الصَّالِحُونَ فَيَهْلِكُونَ بِهَلاكِهِمْ ؟ فَقَالَ : " يَا عَائِشَةُ إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَنْزَلَ سَطْوَتَهُ بِأَهْلِ نِقْمَتِهِ وَفِيهِمُ الصَّالِحُونَ ، فَيُصَابُونَ مَعَهُمْ ، ثُمَّ يُبْعَثُونَ عَلَى نِيَّاتِهِمْ وَأَعْمَالِهِمْ " .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جب اللہ تعالیٰ اہل زمین پر اپنا عذاب نازل کرتا ہے، تو اگر ان کے درمیان نیک لوگ ہوں، تو کیا وہ بھی ان کے ساتھ ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عائشہ جب اللہ تعالیٰ اپنے عذاب یافتہ لوگوں پر عذاب نازل کرے گا اور ان کے درمیان نیک لوگ بھی ہوں، تو وہ عذاب انہیں بھی لاحق ہو جاتا ہے لیکن پھر ان کی نیتوں اور ان کے عمل کے حساب سے (قیامت کے دن) انہیں زندہ کیا جائے گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7314
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح لغيره - «الصحيحة» (1622 و 2693). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط حديث صحيح لغيره
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7270»