کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: حجاز، یمن، شام، فارس اور عمان کے متعلق بیان - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل فارس کے لیے ایمان اور حق کے قول کی گواہی کا
حدیث نمبر: 7308
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ ، حَدَّثَنَا الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَزَلَتْ عَلَيْهِ : وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَنْ هَؤُلاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَلَمْ يُجِبْهُ ، فَعَادَ وَمَضَى سَلْمَانُ ، فَضَرَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْكِبِهِ ، وَقَالَ : " لَوْ كَانَ الإِيمَانُ مُعَلَّقًا بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ قَوْمِ هَذَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ” اور ان میں سے بعد میں آنے والے لوگ بھی ہیں، جو ان سے نہیں ملے ہیں۔ “ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ کون لوگ ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس شخص نے دوبارہ سوال دہرایا، اس دوران سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے ارشاد فرمایا: اگر ایمان ثریا (ستارے) پر لٹکا ہوا ہو تو اس کی قوم کے کچھ لوگ وہاں سے بھی اسے حاصل کر لیں گے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7308
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1017): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7264»