کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عبد القيس کے وفد سے شرمندگی اور ندامت کی نفی کا جب وہ ان کے پاس آئے
حدیث نمبر: 7295
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَدِمَ وَفْدُ عَبْدِ الْقَيْسِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَرْحَبًا بِالْوَفْدِ غَيْرَ خَزَايَا وَلا نَادِمِينَ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَكَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ مُضَرَ ، وَإِنَّا لا نَصِلُ إِلَيْكَ إِلا فِي الأَشْهُرِ الْحُرُمِ ، فَحَدِّثْنَا عَمَلا مِنَ الأَجْرِ إِذَا أَخَذْنَا بِهِ ، دَخَلْنَا الْجَنَّةَ ، وَنَدْعُوا إِلَيْهِ مِنْ وَرَاءِنَا ، فَقَالَ : " آمُرُكُمْ بِأَرْبَعٍ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنْ أَرْبَعٍ : الإِيمَانُ بِاللَّهِ " ، قَالَ : " وَهَلْ تَدْرُونَ مَا الإِيمَانُ بِاللَّهِ ؟ " ، قَالُوا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : " شَهَادَةُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، وَإِقَامُ الصَّلاةِ ، وَإِيتَاءُ الزَّكَاةِ ، وَصَوْمُ رَمَضَانَ ، وَتُعْطُوا الْخُمُسَ مِنَ الْغَنَائِمِ ، وَأَنْهَاكُمْ عَنِ النَّبِيذِ فِي الدُّبَّاءِ ، وَالنَّقِيرِ وَالْحَنْتَمِ وَالْمُزَفَّتِ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: عبدالقیس قبیلے کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اس وفد کو خوش آمدید جو کسی رسوائی اور ندامت کے بغیر ہو۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمارے اور آپ کے درمیان مضر قبیلے سے تعلق رکھنے والے مشرکین رہتے ہیں اس لیے ہم صرف حرمت والے مہینوں میں آپ کی خدمت میں حاضر ہو سکتے ہیں آپ اجر کے حوالے سے ہمیں کسی ایسے عمل کے بارے میں بتائیے کہ جب ہم اسے اختیار کریں تو ہم جنت میں داخل ہو جائیں اور ہم اپنے پیچھے لوگوں کو بھی اس کی طرف دعوت دیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہیں چار باتوں کا حکم دیتا ہوں اور چار چیزوں سے منع کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ بات جانتے ہو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے سے مراد کیا ہے۔ لوگوں نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں، نماز قائم کرنا، زکوۃ ادا کرنا، رمضان کے روزے رکھنا اور مال غنیمت میں سے خمس ادا کرنا، اور میں تمہیں دباء میں نبیذ تیار کرنے، نقیر حنتم، مزفت (میں نبیذ تیار کرنے یا ان برتنوں کو استعمال کرنے سے) منع کرتا ہوں۔