کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ انس کا قول سے مراد یہ لکھنا تھا کہ انصار کے لیے بحرین کاٹ دیا جائے
حدیث نمبر: 7276
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ حِسَابٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الأَنْصَارَ الْبَحْرَيْنِ ، أَوْ قَالَ : طَائِفَةً مِنْهَا ، فَقَالُوا : لا ، حَتَّى تُقْطِعَ إِخْوَانَنَا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَ الَّذِي أَقْطَعْتَنَا ، قَالَ : " أَمَا إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً ، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بحرین میں جاگیریں عطا کیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) انصار میں سے کچھ افراد کو جاگیریں عطا کیں۔ انہوں نے عرض کی: جی نہیں جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اسی کی مانند عطا نہیں کرتے، جس طرح آپ نے ہمیں عطا کیا ہے۔ ہم اس وقت تک اسے قبول نہیں کریں گے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ میرے بعد ترجیحی سلوک کا سامنا کرو گے، تو تم لوگ صبر سے کام لینا، یہاں تک کہ تم مجھ سے آ ملو۔