کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر اس خبر کا جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قول "ویؤثرون على أنفسهم" بنو ہاشم کے بارے میں نازل ہوا
حدیث نمبر: 7264
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَابَنِي الْجَهْدُ ، فَأَرْسَلَ إِلَى نِسَائِهِ ، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُمْ شَيْئًا ، فَقَالَ : " أَلا رَجُلٌ يُضَيِّفُهُ هَذِهِ اللَّيْلَةَ ؟ " ، فَقَامَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ ، فَقَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَذَهَبَ إِلَى أَهْلِهِ ، فَقَالَ لامْرَأَتِهِ : ضَيْفُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا تَدَّخِرِي عَنْهُ شَيْئًا ، فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا عِنْدِي إِلا قُوتُ الصِّبْيَةِ ، قَالَ : فَإِذَا أَرَادَ الصِّبْيَةُ الْعَشَاءَ فَنَوِّمِيهِمْ ، وَتَعَالِي ، فَأَطْفِئِي السَّرَّاجَ ، وَنَطْوِي بُطُونَنَا اللَّيْلَةَ ، فَفَعَلَتْ ، ثُمَّ غَدَا الرَّجُلُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَقَدْ عَجِبَ اللَّهُ ، أَوْ ضَحِكَ اللَّهُ مِنْ فُلانٍ وَفُلانَةَ " ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : وَيُؤْثِرُونَ عَلَى أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے بھوک لاحق ہوئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف پیغام بھیجا، تو ان کے ہاں کچھ بھی موجود نہ تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی شخص آج کی رات اس کو اپنا مہمان بنائے گا، تو انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص کھڑا ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں (اسے اپنا مہمان بناؤں گا) وہ شخص اپنی بیوی کے پاس گیا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مہمان ہے۔ تم اس کے حوالے سے کوئی چیز چھپا کر نہ رکھنا۔ اس عورت نے کہا: اللہ کی قسم میرے پاس صرف بچوں کی خوراک جتنی چیز ہے۔ انصاری نے کہا: جب بچے رات کا کھانا کھانا چاہیں، تو تم ان کو سلا دینا۔ پھر تم چراغ بجھا دینا۔ آج رات ہم اپنا پیٹ لپیٹ لیں گے۔ اس عورت نے ایسا ہی کیا۔ اگلے دن وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کو فلاں مرد اور فلاں عورت کا طرزعمل اچھا لگا۔
(راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں:) کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی۔ ” اور وہ لوگ اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ ان کو خود شدید ضرورت لاحق ہو۔ “
(راوی کو شک ہے کہ شاید یہ الفاظ ہیں:) کہ اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوا، تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل کی۔ ” اور وہ لوگ اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں، خواہ ان کو خود شدید ضرورت لاحق ہو۔ “