کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر انصار کے قراء کی کیفیت کا
حدیث نمبر: 7263
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السَّامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ الْمَقَابِرِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " كَانَ شَبَابٌ مِنَ الأَنْصَارِ يُسَمَّوْنَ الْقُرَّاءَ يَكُونُونَ فِي نَاحِيَةٍ مِنَ الْمَدِينَةِ ، يَحْسَبُ أَهْلُوهُمْ أَنَّهُمْ فِي الْمَسْجِدِ ، وَيُحْسَبُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ أَنَّهُمْ فِي أَهْلِيهِمْ ، فَيُصَلُّونَ مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى إِذَا تَقَارَبَ الصُّبْحُ ، احْتَطَبُوا الْحَطَبَ ، وَاسْتَعْذَبُوا مِنَ الْمَاءِ ، فَوَضَعُوهُ عَلَى أَبْوَابِ حُجَرِ رَسُولِ اللَّهِ ، فَبَعَثَهُمْ جَمِيعًا إِلَى بِئْرِ مَعُونَةَ ، فَاسْتُشْهِدُوا ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَتَلَتِهِمْ أَيَّامًا " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انصار سے تعلق رکھنے والے کچھ نوجوان جنہیں قاری صاحبان کہا: جاتا تھا وہ مدینہ منورہ کے کنارے پر رہتے تھے۔ ان کے گھر والے یہ سمجھتے تھے کہ وہ مسجد میں ہوں گے اور مسجد والے یہ سمجھتے تھے کہ وہ گھر پر ہوں گے۔ وہ لوگ رات کے وقت نوافل ادا کرتے رہتے تھے اور جب صبح قریب آتی تھی تو وہ لکڑیاں چنا کرتے تھے اور میٹھا پانی حاصل کرتے تھے اور یہ چیزیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجروں کے دروازوں پر رکھ دیتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو بئر معونہ کی طرف بھیجا تھا، تو وہ وہاں سب شہید ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قاتلوں کے خلاف کئی دن تک دعائے ضرر کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7263
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «فقه السيرة» (ص 277). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7219»