کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر اس خبر کا جو اس بات کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے محبوب صحابی مہاجرین اور انصار تھے، پھر اسلم اور غفار
حدیث نمبر: 7257
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَخِي أبِي رُهْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا رُهْمٍ الْغِفَارِيَّ ، يَقُولُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ : غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبُوكاًَ ، فَلَمَّا قَفَلَ سِرْنَا لَيْلَةً ، فَسِرْتُ قَرِيبًا مِنْهُ ، وَأُلْقِيَ عَلَيَّ النُّعَاسُ ، فَطَفِقْتُ أَسْتَيْقِظُ وَقَدْ دَنَتْ رَاحِلَتِي مِنْ رَاحِلَتِهِ ، فَيُفْزِعُنِي دُنُوُّهَا خَشْيَةَ أَنْ أُصِيبَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ ، فَأَزْجُرُ رَاحِلَتِي ، حَتَّى غَلَبَتْنِي عَيْنِي فِي بَعْضِ اللَّيْلِ فَزَحَمَتْ رَاحِلَتِي رَاحِلَتَهُ ، وَرِجْلُهُ فِي الْغَرْزِ فَأَصَبْتُ رِجْلَهُ ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلا بِقَوْلِهِ : " حَسَّ " ، فَرَفَعْتُ رَأْسِي ، فَقُلْتُ : اسْتَغْفِرْ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " سِرْ " ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُنِي عَمَّنْ تَخَلَّفَ مِنْ بَنِي غِفَارَ ، فَأَخْبَرْتُهُ ، فَإِذَا هُوَ قَالَ : " مَا فَعَلَ النَّفَرُ الْحُمْرُ الثِّطَاطُ ؟ " ، فَحَدَّثْتُهُ بِتَخَلُّفِهِمْ ، قَالَ : " مَا فَعَلَ النَّفَرُ السُّودُ الْجِعَادُ الْقِطَاطُ ، أَوِ الْقِصَارُ ، الَّذِينَ لَهُمْ نَعَمٌ بِشَبَكَةِ شَرْخٍ ؟ " ، فَتَذَكَّرْتُهُمْ فِي بَنِي غِفَارَ ، فَلَمْ أَذْكُرْهُمْ حَتَّى ذَكَرْتُ رَهْطًا مِنْ أَسْلَمَ فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُولَئِكَ رَهْطٌ مِنْ أَسْلَمَ وَقَدْ تَخَلَّفُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَمَا يَمْنَعُ أُولَئِكَ حِينَ تَخَلَّفَ أَحَدُهُمْ أَنْ يَحْمِلَ عَلَى بَعْضِ إِبِلِهِ امْرءاًً نَشِيطًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، إِنَّ أَعَزَّ أَهْلِي عَلَيَّ أَنْ يَتَخَلَّفَ عَنِّي الْمُهَاجِرُونَ ، وَالأَنْصَارُ وَأَسْلَمُ وَغِفَارُ " .
سیدنا ابورہم غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ان صحابہ کرام میں سے ایک ہیں۔ جنہوں نے (بیعت رضوان کے موقع پر) درخت کے نیچے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی۔ وہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ تبوک میں شرکت کی۔ جب ہم واپس آ رہے تھے تو ہم رات بھر چلتے رہے۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہی سفر کرتا رہا۔ مجھے اونگھ آ گئی۔ میں خود کو بیدار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ میری سواری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ہوئی۔ اس کے قریب آنے کی وجہ سے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں میں رکاب میں موجود آپ کے پاؤں کو نقصان نہ پہنچاؤں، تو میں نے اپنی سواری کو جھڑکا، لیکن پھر رات کے کسی حصے میں میری آنکھ لگ گئی۔ پھر میری سواری نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کے ساتھ لگی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا پاؤں اس وقت رکاب میں تھا۔ میری ٹکر آپ کے پاؤں سے ہوئی۔ میں اس وقت بیدار ہوا۔ جب آپ نے یہ فرمایا: دھیان کرو۔ میں نے اپنا سر اٹھایا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے لیے دعائے مغفرت کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم چلتے رہو۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اس بارے میں دریافت کرنا شروع کیا کہ میں اپنے پیچھے بنو غفار کو کس حالت میں چھوڑ کر آیا ہوں۔ میں نے آپ کو اس بارے میں بتایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس گروہ کی کیا حالت ہے جو سرخ رنگ کے تھے اور ان کے چہرے پر بال نہیں ہوتے صرف ٹھوڑی پر تھوڑے سے بال ہوتے ہیں۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے پیچھے رہنے کے بارے میں بتایا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس گروہ کا کیا حال ہے جس کا رنگ سیاہ تھا اور بال بکھرے ہوئے تھے۔ میں نے بنو غفار میں ان کے ہونے کا ذکر کیا۔ میں نے ان کا ذکر نہیں کیا، یہاں تک کہ میں نے ایک گروہ کا ذکر کیا جس کا تعلق اسلم قبیلے سے تھا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! اسلم قبیلے کا ایک گروہ ہے وہ لوگ پیچھے رہ گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ پیچھے کیوں رہ گئے۔ جب ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ گیا تھا، تو پھر کسی دوسرے کو اپنا اونٹ اسے دے دینا چاہئے تھا تاکہ وہ اللہ کی راہ میں (اپنا سفر کرتا رہتا) میرے نزدیک یہ بات سب سے ناپسندیدہ ہے کہ مہاجرین، انصار یا اسلم قبیلے کے لوگ یا غفار قبیلے کے لوگ مجھ سے پیچھے رہ جائیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7257
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني ضعيف - «ضعيف الأدب المفرد» (116 - 754). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده ضعيف
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7213»