کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابہ اور تابعین کے ساتھ خیر کی وصیت کا
حدیث نمبر: 7254
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُوقَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ خَطَبَ بِالْجَابِيَةِ ، فَقَالَ : قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقَامِي فِيكُمْ ، فَقَالَ : " اسْتَوْصُوا بِأَصْحَابِي خَيْرًا ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ، ثُمَّ يَفْشُو الْكَذِبُ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَبْتَدِئُ بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا ، وَبِالْيَمِينِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا ، فَمَنْ أَرَادَ مِنْكُمْ بُحْبُوحَةَ الْجَنَّةِ فَلْيَلْزَمِ الْجَمَاعَةَ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ مَعَ الْوَاحِدِ ، وَهُوَ مِنَ الاثْنَيْنِ أَبْعَدُ ، وَلا يَخْلُوَنَّ أَحَدُكُمْ بِامْرَأَةٍ ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ ثَالِثُهُمَا ، وَمَنْ سَرَّتْهُ حَسَنَتُهُ وَسَاءَتْهُ سَيِّئَتُهُ ، فَهُوَ مُؤْمِنٌ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جابیہ کے مقام پر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان اس طرح کھڑے ہوئے، جس طرح میں تمہارے درمیان کھڑا ہوا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: میرے اصحاب کے بارے میں بھلائی کی تلقین کو قبول کرو پھر اس کے بعد والے لوگوں کے بارے میں پھر اس کے بعد والے لوگوں کے بارے میں (بھلائی کی تلقین کو قبول کرو) پھر جھوٹ پھیل جائے گا، یہاں تک کہ آدمی شہادت کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے ہی گواہی دے گا اور قسم کا مطالبہ کیے جانے سے پہلے ہی قسم اٹھائے گا، تو جو شخص جنت کے درمیان میں جانا چاہتا ہو وہ (مسلمانوں کی) جماعت کو لازم نہ کرے کیونکہ شیطان ایک شخص کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ دو آدمیوں سے زیادہ دور ہوتا ہے کوئی بھی شخص کسی (اجنبی) عورت کے ساتھ تنہائی میں ہرگز نہ رہے۔ کیونکہ ان کے ساتھ تیسرا شیطان ہو گا اور جس شخص کو نیکی اچھی لگے اور برائی بری لگے وہ مومن ہے۔