کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: صحابۂ کرام اور تابعین رضی اللہ عنہم کے فضائل کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے صحابہ کے لیے امان بنایا اور صحابہ کو ان کی امت کے لیے امان بنایا
حدیث نمبر: 7249
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ يَحْيَى ، قَالَ : سَمِعْتُهُ يَذْكُرُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْنَا : لَوِ انْتَظَرْنَا حَتَّى نُصَلِّي مَعَهُ الْعِشَاءَ ، فَانْتَظَرْنَا ، فَخَرَجَ عَلَيْنَا ، فَقَالَ : " مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا ؟ " ، قُلْنَا : نَعَمْ ، نُصَلِّي مَعَكَ الْعِشَاءَ ، قَالَ : " أَحْسَنْتُمْ " ، أَوْ قَالَ : " أَصَبْتُمْ " ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ ، فَقَالَ : " النُّجُومُ أَمَنَةُ السَّمَاءِ ، فَإِذَا ذَهَبَتِ النُّجُومُ أَتَى السَّمَاءَ مَا تُوعَدُ ، وَأَنَا أَمَنَةٌ لأَصْحَابِي ، فَإِذَا أَنَا ذَهَبْتُ أَتَى أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ ، وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لأُمَّتِي ، فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَى أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ " ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى هَذَا الْخَبَرِ أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا جَعَلَ النُّجُومَ عَلامَةً لِبَقَاءِ السَّمَاءِ وَأَمَنَةً لَهَا عَنِ الْفَنَاءِ ، فَإِذَا غَارَتْ وَاضْمَحَلَّتْ أَتَى السَّمَاءَ الْفَنَاءُ الَّذِي كُتِبَ عَلَيْهَا ، وَجَعَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا الْمُصْطَفَى أَمَنَةَ أَصْحَابِهِ مِنْ وقُوعِ الْفِتَنِ ، فَلَمَّا قَبَضَهُ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا إِلَى جَنَّتِهِ ، أَتَى أَصْحَابَهُ الْفِتَنُ الَّتِي أُوعِدُوا ، وَجَعَلَ اللَّهُ أَصْحَابَهُ أَمَنَةَ أُمَّتِهِ مِنْ ظُهُورِ الْجَوْرِ فِيهَا ، فَإِذَا مَضَى أَصْحَابُهُ ، أَتَاهُمْ مَا يُوعَدُونَ مِنَ ظُهُورِ غَيْرِ الْحَقِّ مِنَ الْجَوْرِ وَالأَبَاطِيلِ .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں مغرب کی نماز ادا کی، تو ہم نے کہا: اگر ہم انتظار کر لیں، یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ کی اقتداء میں ادا کریں (تو یہ مناسب ہو گا) تو ہم لوگ انتظار کرنے لگے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور آپ نے دریافت کیا: کیا تم لوگ اس وقت سے یہاں ہو؟ ہم نے عرض کی: جی ہاں ہم آپ کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کرنا چاہتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) تم نے ٹھیک کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور فرمایا ستارے آسمان کے امین (یا محافظ ہیں) جب یہ ستارے رخصت ہو جائیں گے تو آسمان پر وہ چیز آ جائے گی، جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے اور میں اپنے ساتھیوں کا محافظ ہوں۔ جب میں رخصت ہو جاؤں گا تو میرے ساتھیوں پر وہ چیز آئے گی جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے ساتھی میری امت کے لیے محافظ ہیں۔ جب میرے ساتھی رخصت ہو جائیں گے تو میری امت پر وہ چیز آ جائے گی، جس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس بات کا احتمال موجود ہے کہ اس روایت کا مطلب یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو آسمانوں کی بقاء کی نشانی اور آسمان کو فنا ہونے سے بچنے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب یہ غارت ہو جائیں گے اور مضمحل ہو جائیں گے اور آسمان پر فنا طاری ہو جائے گی، جو اس کے نصیب میں لکھی گئی ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ساتھیوں کے لیے فتنوں سے محفوظ ہونے کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ آپ کو قبض کر کے اپنی جنت کی طرف لے جائے گا، تو آپ کے اصحاب تک وہ فتنے آئیں گے جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو آپ کی امت کے لیے محافظ قرار دیا ہے، جو امت میں ظلم و ستم کے ظہور سے بچاؤ کا ذریعہ ہیں۔ جب آپ کے اصحاب رخصت ہو جائیں گے تو پھر امت تک وہ چیز آ جائے گی جن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے، جو ناحق چیزوں کے ظہور سے متعلق ہو گی، جس کا تعلق ظلم اور باطل چیزوں سے ہو گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7249
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م (7/ 183). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الصحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7205»