کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ اس امت کے جنت میں داخل ہونے والوں کی تعداد کی کیفیت
حدیث نمبر: 7245
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبَى عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ الأَوْدِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا هُوَ ذَاتُ يَوْمٍ فِي بَيْتِ الْمَالِ ، إِذْ قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ قُبَّةٍ لَهُ مِنْ أَدَمٍ ، فَقَالَ : " أَلا تَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " وَثُلُثُ أَهْلِ الْجَنَّةِ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، إِنِّي لأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، إِنَّ مَثَلَ الْمُسْلِمِينَ فِي الْكُفَّارِ كَالْبَقَرَةِ الْبَيْضَاءِ فِيهَا الشَّعْرَةُ السَّوْدَاءُ ، أَوْ كَالْبَقَرَةِ السَّوْدَاءِ فِيهَا الشَّعْرَةُ الْبَيْضَاءُ " .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ بیت المال میں موجود تھے تو انہوں نے فرمایا: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چمڑے سے بنے ہوئے خیمے سے باہر نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا: کیا تم لوگ اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم اہل جنت کا چوتھائی حصہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یا اہل جنت کا ایک تہائی حصہ ہو۔ لوگوں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے اس بات کی امید ہے کہ تم اہل جنت کا نصف ہو گے۔ کفار کے درمیان مسلمانوں کی مثال اس طرح ہے، جس طرح کوئی سفید گائے ہو جس میں ایک سیاہ بال موجود ہو۔ یا سیاہ گائے ہو جس میں ایک سفید بال موجود ہو۔