کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے رب سے درخواست کا کہ ان کی امت کو اس طرح ہلاک نہ کرے جیسے پہلی امتوں کو کیا
حدیث نمبر: 7236
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ الشَّرْقِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابِ بْنِ الأَرَتِّ ، أَنَّ خَبَّابًا ، قَالَ : رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاةٍ صَلاهَا حَتَّى كَانَ مَعَ الْفَجْرِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلاتِهِ جَاءَهُ خَبَّابٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَقَدْ صَلَّيْتَ اللَّيْلَةَ صَلاةً مَا رَأَيْتُكَ صَلَّيْتَ نَحْوَهَا ، قَالَ : " أَجَلْ إِنَّهَا صَلاةُ رَغَبٍ وَرَهَبٍ ، سَأَلْتُ رَبِّي فِيهَا ثَلاثَ خِصَالٍ ، فَأَعْطَانِي اثْنَتَيْنِ ، وَمَنَعَنِي وَاحِدَةً ، سَأَلْتُهُ أَنْ لا يُهْلِكَنَا بِمَا أَهْلَكَ بِهِ الأُمَمَ قَبْلَهَا ، فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يُظْهِرَ عَلَيْنَا عَدُوًّا مِنْ غَيْرِنَا ، فَأَعْطَانِيهَا ، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يَلْبِسَنَا شِيَعًا ، فَمَنَعَنِيهَا " .
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا جائزہ لیتا رہا، جو آپ ادا کرتے رہے تھے، یہاں تک کہ صبح صادق کا وقت قریب آ گیا تھا۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نماز کا سلام پھیرا تو سیدنا خباب رضی اللہ عنہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آج رات آپ نے ایسی نماز ادا کی ہے کہ میں نے آپ کو اس کی مانند نماز ادا کرتے ہوئے کبھی نہیں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں یہ ایک ایسی نماز تھی جس میں رغبت اور ہیبت دونوں چیزیں پائی جاتی تھیں۔ میں نے اس کے دوران اپنے پروردگار سے تین چیزوں کے بارے میں سوال کیا، تو اس نے دو چیزیں مجھے عطا کر دیں اور ایک چیز عطا نہیں کی۔ میں نے اس سے یہ درخواست کی کہ وہ ہمیں اس طرح ہلاکت کا شکار نہ کرے، جس طرح اس نے پہلے کی امتوں کو ہلاکت کا شکار کیا تھا، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی۔ میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ وہ ہم پر ایسے دشمن کو غالب نہ کرے جو دوسری قوم سے تعلق رکھتا ہو، تو اس نے مجھے یہ چیز بھی عطا کر دی۔ میں نے اس سے یہ سوال کیا کہ وہ ہمیں گروہوں میں تقسیم نہ کرے، تو اس نے اس چیز کو قبول نہیں کیا۔