کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر اللہ تعالیٰ کے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے وعدہ کا کہ وہ ان کی امت سے راضی ہوں گے اور انہیں ناراض نہیں کریں گے
حدیث نمبر: 7235
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ بَكْرَ بْنَ سَوَادَةَ حَدَّثَهُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلا قَوْلَ اللَّهِ جَلَّ وَعَلا فِي إِبْرَاهِيمَ : إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ فَمَنْ تَبِعَنِي فَإِنَّهُ مِنِّي وَمَنْ عَصَانِي فَإِنَّكَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ، وَقَالَ عِيسَى : إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ فَرَفَعَ يَدَيْهِ ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ أُمَّتِي أُمَّتِي " ، وَبَكَى ، فَقَالَ اللَّهُ : " يَا جِبْرِيلُ ، اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَبُّكَ أَعْلَمُ ، فَسَلْهُ مَا يُبْكِيهِ ؟ فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ ، فَسَأَلَهُ ، فَأَخْبَرَهُ بِمَا قَالَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، فَقَالَ اللَّهُ : يَا جِبْرِيلُ اذْهَبْ إِلَى مُحَمَّدٍ ، فَقُلْ : إِنَّا سَنُرْضِيكَ فِي أُمَّتِكَ وَلا نَسُوؤُكَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: تلاوت کیا۔ (سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے یہ کہا: تھا:) ” اے میرے پروردگار! ان (بتوں) نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا جو شخص میری پیروی کرے وہ مجھ سے ہو گا اور جو میری نافرمانی کرے تو بے شک تو مغفرت کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ “ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) سیدنا عیسیٰ علیہ السلام نے یہ کہا:۔ ” اگر تو انہیں عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں۔ “
(راوی بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا کی: اے اللہ میری امت (کی مغفرت کر دے) میری امت (کی مغفرت کر دے) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) تمہارا پروردگار زیادہ علم رکھتا ہے (لیکن پھر بھی اس نے یہ ارشاد فرمایا) تم اس سے دریافت کرو کہ تم کیوں رو رہے ہو، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اللہ تعالیٰ کو بتایا حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور یہ کہو ہم تمہاری امت کے بارے میں تمہیں راضی کر دیں گے۔ ہم تمہیں رسوا نہیں کریں گے۔
(راوی بیان کرتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے اور دعا کی: اے اللہ میری امت (کی مغفرت کر دے) میری امت (کی مغفرت کر دے) تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں) تمہارا پروردگار زیادہ علم رکھتا ہے (لیکن پھر بھی اس نے یہ ارشاد فرمایا) تم اس سے دریافت کرو کہ تم کیوں رو رہے ہو، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اللہ تعالیٰ کو بتایا حالانکہ اللہ تعالیٰ زیادہ بہتر جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے جبرائیل! محمد کے پاس جاؤ اور یہ کہو ہم تمہاری امت کے بارے میں تمہیں راضی کر دیں گے۔ ہم تمہیں رسوا نہیں کریں گے۔