کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر اس بیان کا کہ اہل بدر صحابہ میں سب سے افضل اور اس امت کے بہترین ہیں
حدیث نمبر: 7224
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْدَانَ الْحَرَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِبْرِيلُ أَوْ مَلَكٌ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَهْلُ بَدْرٍ فِيكُمْ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هُمْ عِنْدَنَا أَفَاضِلُ النَّاسِ " ، قَالَ : وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ عِنْدَنَا مِنَ الْمَلائِكَةِ ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : رَوَى هَذَا الْخَبَرَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَكَانَ أَبُوهُ وَجَدُّهُ مِنْ أَهْلِ الْعَقَبَةِ ، قَالَ : أَتَى جِبْرِيلُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَدْ رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ جَدِّهِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَسُفْيَانُ أَحْفَظُ مِنْ جَرِيرٍ وَأَتْقَنُ وَأَفْقَهُ ، كَانَ إِذَا حَفِظَ الشَّيْءَ لَمْ يُبَالِ بِمَنْ خَالَفَهُ .
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں:) ایک فرشتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: آپ کے درمیان اہل بدر کی کیا حیثیت ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ فضیلت رکھنے والے لوگ ہیں، تو اس نے عرض کی: جو فرشتے اس میں شریک ہوئے تھے۔ وہ ہمارے نزدیک یہی حیثیت رکھتے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت جریر بن عبدالحمید نے یحیی بن سعید کے حوالے سے معاذ بن رفاعہ کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے۔ ان کے والد اور ان کے دادا دونوں کو بیعت عقبہ میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔
سفیان ثوری نے یہ روایت یحیی بن سعید کے حوالے سے عبایہ بن رفاعہ کے حوالے سے اور ان کے دادا سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔
سفیان، جریر کے مقابلے میں زیادہ بڑے حافظ الحدیث، زیادہ متقن اور زیادہ بڑے فقیہہ ہیں اور جب وہ کسی چیز کو یاد رکھتے ہوں تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کے برخلاف الفاظ کس نے نقل کیے ہیں۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ روایت جریر بن عبدالحمید نے یحیی بن سعید کے حوالے سے معاذ بن رفاعہ کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے۔ ان کے والد اور ان کے دادا دونوں کو بیعت عقبہ میں شریک ہونے کا شرف حاصل ہے وہ بیان کرتے ہیں: سیدنا جبرائیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔
سفیان ثوری نے یہ روایت یحیی بن سعید کے حوالے سے عبایہ بن رفاعہ کے حوالے سے اور ان کے دادا سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے۔
سفیان، جریر کے مقابلے میں زیادہ بڑے حافظ الحدیث، زیادہ متقن اور زیادہ بڑے فقیہہ ہیں اور جب وہ کسی چیز کو یاد رکھتے ہوں تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے کہ ان کے برخلاف الفاظ کس نے نقل کیے ہیں۔