کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر اللہ تعالیٰ کے اس امت کو تھوڑے عمل پر دوسری امتوں کے کثیر عمل سے زیادہ ثواب دینے کا
حدیث نمبر: 7221
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ قَائِمٌ عَلَى الْمِنْبَرِ : " إِنَّمَا بَقَاؤُكُمْ فِيمَنْ سَلَفَ قَبْلَكُمْ كَمَا بَيْنَ صَلاةِ الْعَصْرِ إِلَى غُرُوبِ الشَّمْسِ أُعْطِيَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ التَّوْرَاةَ ، فَعَمِلُوا بِهَا حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ عَجَزُوا عَنْهَا ، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، وَأُعْطِيَ أَهْلُ الإِنْجِيلِ الإِنْجِيلَ ، فَعَمِلُوا بِهِ حَتَّى إِذَا بَلَغُوا صَلاةَ الْعَصْرِ ، عَجَزُوا ، فَأُعْطُوا قِيرَاطًا قِيرَاطًا ، وَأُعْطِيتُمُ الْقُرْآنَ ، فَعَمِلْتُمْ بِهِ حَتَّى إِذَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ أُعْطِيتُمْ قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ، قَالَ أَهْلُ التَّوْرَاةِ وَالإِنْجِيلِ : رَبَّنَا هَؤُلاءِ أَقَلُّ عَمَلا مِنَّا وَأَكْثَرُ أَجْرًا ، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : هَلْ ظُلِمْتُمْ مِنْ أَجْرِكُمْ شَيْئًا ؟ فَقَالُوا : لا ، فَقَالَ : فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: آپ اس وقت منبر پر کھڑے ہوئے تھے۔ ” تم سے پہلے جو لوگ گزر چکے ہیں ان کے مقابلے میں تمہاری بقا یوں ہے جیسے عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا درمیانی وقت ہوتا ہے اہل تورات کو تورات دی گئی، انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ جب نصف دن گزر گیا تو وہ اس کے حوالے سے عاجز آ گئے، تو انہیں ایک ایک قیراط دے دیا گیا۔ اہل انجیل کو انجیل دی گئی، انہوں نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ جب وہ عصر کے وقت تک پہنچے تو عاجز آ گئے اور انہیں ایک ایک قیراط دے دیا گیا۔ تمہیں قرآن دیا گیا تم نے اس پر عمل کیا یہاں تک کہ جب سورج غروب ہو گیا تو تمہیں دو دو قیراط دیئے گئے۔ اہل تورات اور اہلِ انجیل نے کہا: اے ہمارے پروردگار! ان لوگوں نے ہم سے کم کام کیا ہے اور انہیں زیادہ اجر ملا ہے، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے اجر کے حوالے سے کوئی زیادتی کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ تو پروردگار نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں یہ عطا کر دوں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7221
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (7173). تنبيه!! رقم (7173) = (7217) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7177»