کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر اس کیفیت کا کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو کیا آزمائش دی اور اس سے دنیا میں عذاب کی تعجیل کو ہٹایا
حدیث نمبر: 7220
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعَ عَمْرٌو ، جَابِرًا ، قَالَ : لَمَّا أُنْزِلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ ، قَالَ : " أَعُوذُ بِوَجْهِكَ " ، أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ ، قَالَ : " أَعُوذُ بِوَجْهِكَ " ، أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ، قَالَ : " هَاتَانِ أَهْوَنُ أَوْ أَيْسَرُ " .
سفیان نامی راوی بیان کرتے ہیں: عمرو نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ” تم یہ فرما دو! وہ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ تمہارے اوپر سے تم پر عذاب بھیج دے۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: میں تیری ذات کی پناہ مانگتا ہوں (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ” یا تمہارے نیچے سے بھیج دے۔ “ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تیری ذات کی پناہ مانگتا ہوں (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ” یا تمہیں مختلف گروہوں میں تقسیم کر دے یوں کہ تم ایک دوسرے کو قتل کرو۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ دونوں چیزیں زیادہ ہلکی اور زیادہ آسان ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7220
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ (4628 و 7313 و 7406). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7176»