کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر اس خبر کا جو حدیث کی صنعت پر عبور نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلا سکتا ہے
حدیث نمبر: 7218
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَثَلُ الْمُسْلِمِينَ وَالْيَهُودِ وَالنَّصَارَى ، كَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ قَوْمًا يَعْمَلُونَ لَهُ عَمَلا يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ عَلَى أَجْرٍ إِلَى اللَّيْلِ ، فَعَمِلُوا لَهُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ ، ثُمَّ قَالُوا : لا حَاجَةَ لَنَا فِي أَجْرِكَ الَّذِي اشْتَرَطْتَ لَنَا ، وَمَا عَمَلُنَا بَاطِلٌ ، قَالَ لَهُمْ : لا تَفْعَلُوا أَكْمِلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ ، وَخُذُوا أَجْرَكُمْ كَامِلا ، فَأَبَوْا وَتَرَكُوا ذَلِكَ عَلَيْهِ ، فَاسْتَأْجَرَ قَوْمًا آخَرِينَ بَعْدَهُمْ ، فَقَالَ : اعْمَلُوا بَقِيَّةَ يَوْمِكُمْ وَلَكُمُ الَّذِي شَرَطْتُ لَهُمْ مِنَ الأَجْرِ ، فَعَمِلُوا حَتَّى إِذَا كَانَ صَلاةُ الْعَصْرِ ، قَالُوا : الَّذِي عَمِلْنَا بَاطِلٌ ، وَلَكَ الأَجْرُ الَّذِي جَعَلْتَ لَنَا ، لا حَاجَةَ لَنَا فِيهِ ، قَالَ : اعْمَلُوا بَقِيَّةَ عَمَلِكُمْ ، فَإِنَّ مَا بَقِيَ مِنَ النَّهَارِ شَيْءٌ يَسِيرٌ " ، أَحْسَبُهُ قَالَ : " فَأَبَوْا " ، قَالَ : " ثُمَّ عَمِلْتُمْ مِنَ الْعَصْرِ إِلَى اللَّيْلِ ، فَذَلِكَ مَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى وَالَّذِينَ تَرَكُوا مَا أَمَرَهُمُ اللَّهُ بِهِ ، وَمَثَلُ الْمُسْلِمِينَ الَّذِينَ قَبِلُوا هَدْيَ اللَّهِ ، وَمَا جَاءَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” مسلمانوں، یہودیوں اور عیسائیوں کی مثال ایک ایسے شخص کی مانند ہے جو کچھ لوگوں کو مزدور رکھتا ہے کہ وہ سارا دن رات تک اس کے لیے کام کریں گے اور انہیں رات تک کام کرنے کا معاوضہ ملے گا انہوں نے دوپہر تک اس کے لیے کام کیا پھر ان مزدوروں نے کہا: ہمیں تمہارے اس معاوضے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جو تم نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا اور ہم نے جو کام کیا ہے وہ رائیگاں گیا، تو اس شخص نے ان سے کہا: تم ایسا نہ کرو تم اپنا بقیہ دن کو مکمل کر لو اور اپنا مکمل معاوضہ وصول کر لو لیکن انہوں نے اس چیز کو نہیں مانا اور انہوں نے اس کام کو چھوڑ دیا، تو اس شخص نے دوسرے لوگوں کو ان کے بعد مزدور رکھا اور کہا: تم بقیہ دن کام کرو تاہم میں تمہیں وہی اجر دوں گا جو میں نے ان لوگوں کے لئے معاوضہ مقرر کیا تھا، تو ان لوگوں نے کام کیا، یہاں تک کہ جب عصر کا وقت ہوا تو انہوں نے کہا: ہم نے جو کام کیا تھا وہ رائیگاں جاتا ہے تمہارا اجر تمہیں ملے جسے تم نے ہمارے لیے مقرر کیا تھا، ہمیں اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تو وہ شخص کہتا ہے تم اپنا بقیہ کام پورا کر لو کیونکہ اب دن ختم ہونے میں تھوڑا سا وقت باقی رہ گیا ہے (راوی کہتے ہیں) میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو ان لوگوں نے اس بات کو تسلیم نہیں کیا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے عصر سے لے کر رات تک کام کیا (یعنی سورج غروب ہونے تک کام کیا) “ یہ یہودیوں، عیسائیوں اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کے جس حکم کو چھوڑا اس کی مثال ہے اور مسلمانوں کی مثال ہے، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو قبول کیا اور اللہ کے رسول جو لے کر آئے تھے اسے قبول کیا۔