کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس امت کی عمر کی گزشتہ امتوں کی عمر سے تشبیہ کا
حدیث نمبر: 7217
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّمَا أَجَلُكُمْ فِي أَجَلِ مَنْ خَلا مِنَ الأُمَمِ كَمَا بَيْنَ صَلاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ ، وَإِنَّمَا مَثَلُكُمْ وَمَثَلُ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى كَرَجُلٍ اسْتَعْمَلَ عُمَّالا ، فَقَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ قَالَ : فَعَمِلَتِ الْيَهُودُ إِلَى نِصْفِ النَّهَارِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَعْمَلُ لِي مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلاةِ الْعَصْرِ عَلَى قِيرَاطٍ قِيرَاطٍ ؟ قَالَ : فَعَمِلَتِ النَّصَارَى مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ إِلَى صَلاةِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَعْمَلُ مِنْ صَلاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ؟ ثُمَّ قَالَ : أَنْتُمُ الَّذِينَ تَعْمَلُونَ مِنْ صَلاةِ الْعَصْرِ إِلَى مَغَارِبِ الشَّمْسِ عَلَى قِيرَاطَيْنِ قِيرَاطَيْنِ ، قَالَ : فَغَضِبَتِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى ، وَقَالُوا : نَحْنُ كُنَّا أَكْثَرَ عَمَلا وَأَقَلَّ عَطَاءً ، قَالَ : هَلْ ظَلَمْتُكُمْ مِنْ عَمَلِكُمْ شَيْئًا ؟ قَالُوا : لا ، قَالَ : فَإِنَّهُ فَضْلِي أُوتِيهِ مَنْ أَشَاءُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” دیگر امتوں کے مقابلے میں تمہاری مدت اس طرح ہے، جس طرح عصر سے لے کر سورج غروب ہونے تک کا درمیانی وقت ہوتا ہے تمہاری، یہودیوں کی اور عیسائیوں کی مثال اس طرح ہے جیسے ایک شخص کچھ مزدوروں کو کام کے لیے رکھتا ہے وہ شخص یہ کہتا ہے کون میرے لیے ایک قیراط کے عوض میں دوپہر تک کام کرے گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو یہودیوں نے ایک ایک قیراط کے عوض میں دوپہر تک کام کیا پھر وہ شخص کہتا ہے کون میرے لیے دوپہر سے لے کر عصر تک ایک ایک قیراط کے عوض میں کام کرے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: تو عیسائیوں نے دوپہر سے لے کر عصر کے وقت تک کام کیا پھر وہ شخص کہتا ہے کون میرے لیے عصر کی نماز سے لے کر سورج غروب ہونے تک دو دو قیراط کے عوض میں کام کرے گا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم وہ لوگ ہو جو عصر سے لے کے سورج غروب ہونے تک دو دو قیراط کے عوض میں کام کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اس بات پر یہودی اور عیسائی غصے میں آ گئے انہوں نے کہا: ہم نے زیادہ کام کیا ہے اور ہمیں تھوڑا معاوضہ ملا ہے۔ پروردگار نے فرمایا: کیا میں نے تمہارے کام کے حوالے سے تمہارے ساتھ کوئی زیادتی کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں، تو پروردگار نے فرمایا: یہ میرا فضل ہے میں جسے چاہوں عطا کروں گا۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7217
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ - مضى (6605). تنبيه!! رقم (6605) = (6639) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7173»