کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر اس خبر کا کہ جسے اللہ تعالیٰ خیر چاہتا ہے اس کے نبی کو اس سے پہلے قبض کر لیتا تاکہ وہ اس کے لیے پیش رو ہو
حدیث نمبر: 7215
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْهَجَرِيُّ بِالأُبُلَّةِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ بِدِمَشْقَ ، وَعُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا بُرَيْدٌ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ اللَّهَ إِذَا أَرَادَ رَحْمَةَ أُمَّةٍ مِنْ عِبَادِهِ قَبَضَ نَبِيَّهَا قَبْلَهَا ، فَجَعَلَهُ لَهَا فَرَطًا وَسَلَفًا ، وَإِذَا أَرَادَ هَلَكَةَ أُمَّةٍ عَذَّبَهَا وَنَبِيُّهَا حَيٌّ ، فَأَقَرَّ عَيْنَهُ بِهَلْكِهَا حِينَ كَذَّبُوهُ ، وَعَصَوْا أَمَرَهُ " .
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” بے شک اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جب کسی امت پر رحمت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس امت سے پہلے اس کے نبی کی روح کو قبض کر لیتا ہے اور اس نبی کو ان لوگوں کے لیے پیش رو اور آگے جانے والا بنا دیتا ہے جب وہ کسی امت کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے نبی کی زندگی میں ہی ان لوگوں کو عذاب دے دیتا ہے اور ان کو ہلاک کر کے اس نبی کی آنکھوں کو ٹھنڈک دیتے دیتا ہے ایسا اس وقت ہوتا ہے جب وہ لوگ نبی کو تکلیف دیتے ہیں اور اس کے حکم کی نافرمانی کرتے ہیں۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7215
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (6613). تنبيه!! رقم (6613) = (6647) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7171»