کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صفیہ کو صفی سے لینے کی کیفیت کا
حدیث نمبر: 7212
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : كُنْتُ رَدِيفَ أَبِي طَلْحَةَ يَوْمَ خَيْبَرَ ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ قَدَمَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ ، وَقَدْ خَرَجُوا بِمَسَاحِيهِمْ وَفُؤُوسِهِمْ وَمَكَاتِلِهِمْ ، وَقَالُوا : مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُ أَكْبَرُ ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ ، فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ " ، فَقَاتَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَزَمَهُمْ ، فَلَمَّا قُسِمَتِ الْمَغَانِمُ قِيلَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُ وَقَعَ فِي سَهْمِ دَحِيَّةَ الْكَلْبِيِّ جَارِيَةٌ جَمِيلَةٌ ، فَاشْتَرَاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعَةِ أَرْؤُسٍ ، ثُمَّ دَفَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ تُهَيِّئُهَا ، وَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَدَعَا بِالأَنْطَاعِ ، فَأُحْضِرَتْ ، فَوَضَعَ الأَنْطَاعَ وَجِيءَ بِالتَّمْرِ وَالسَّمْنِ ، فَأَوْسَعَهُمْ حَيْسًا ، فَأَكَلَ النَّاسُ حَتَّى شَبِعُوا ، فَقَالَ النَّاسُ : تَزَوَّجَهَا أَمِ اتَّخَذَهَا أُمَّ وَلَدٍ ؟ فَقَالُوا : إِنْ حَجَبَهَا ، فَهِيَ امْرَأَتُهُ ، وَإِنْ لَمْ يَحْجُبْهَا فَهِيَ أُمُّ وَلَدٍ ، فَلَمَّا أَرَادَتْ أَنْ تَرْكَبَ ، حَجَبَهَا حَتَّى قَعَدَتْ عَلَى عَجُزِ الْبَعِيرِ خَلْفَهُ ، ثُمَّ رَكِبَتْ ، فَلَمَّا دَنَوْا مِنَ الْمَدِينَةِ أَوْضَعَ ، وَأَوْضَعَ النَّاسُ ، وَأَشْرَفَتِ النِّسَاءُ يَنْظُرْنَ ، فَعَثَرَتْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاحِلَتُهُ ، فَوَقَعَ وَوَقَعَتْ صَفِيَّةُ ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَجَبَهَا ، فَقَالَتِ النِّسَاءُ : أَبْعَدَ اللَّهُ الْيَهُودِيَّةَ ، وَشَمِتْنَ بِهَا ، قَالَ ثَابِتٌ : فَقُلْتُ لأَنَسٍ : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَوَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ رَاحِلَتِهِ ؟ فَقَالَ : إِي وَاللَّهِ وَقَعَ مِنْ رَاحِلَتِهِ يَا أَبَا مُحَمَّدِ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ خیبر کے موقع پر میں سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور میرے پاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک کو چھو رہے تھے ہم لوگ خیبر آ گئے وہ لوگ اپنی کدالیں اور بیلچے اور ٹوکریاں لے کر (قلعے سے) باہر نکلے انہوں نے کہا: سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور لشکر آ گئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ اکبر خیبر برباد ہو گیا۔ جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ان لوگوں کی حالت بری ہوتی ہے جنہیں ڈرایا گیا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ لڑائی کر کے انہیں پسپا کر دیا جب مال غنیمت تقسیم ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی گئی: سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک حسین و جمیل کنیز آئی ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات غلاموں (یا کنیزوں) کے عوض میں اس کو خرید لیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے سپرد کیا تاکہ وہ انہیں تیار کر دیں۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا غزوات میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوتی تھیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دسترخوان منگوایا اسے پیش کیا گیا اس دسترخوان کو بچھایا گیا پھر کھجوریں اور گھی لایا گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کے لئے حیس تیار کروایا۔ لوگوں نے اسے کھایا، یہاں تک کہ وہ سیر ہو گئے۔ لوگوں نے (آپس میں ایک دوسرے سے) دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کے ساتھ شادی کی ہے یا اسے ام ولد بنایا ہے، تو دوسروں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون کو پردہ کروایا، تو وہ آپ کی اہلیہ ہوں گی اگر انہیں پردہ نہیں کرواتے تو پھر ام ولد شمار ہوں گی۔ جب سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سواری پر سوار ہونے لگیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا پردہ کروا لیا، یہاں تک کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے اونٹ پر بیٹھ گئیں پھر جب یہ لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو تیز کر لیا لوگوں نے بھی سواری کو تیز کر لیا۔ خواتین جھانک کر دیکھنے لگیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو ٹھوکر لگی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا گر گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے آپ نے اس خاتون کا پردہ کروایا، تو خواتین نے کہا: اللہ تعالیٰ اس یہودی عورت کو دور ہی رکھے۔ انہوں نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو برا بھلا کہا:۔
ثابت بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اے ابوحمزہ! کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے نیچے گر پڑے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں اللہ کی قسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے گر گئے تھے: اے ابومحمد!
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7212
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - مضى (7425 و 7426). تنبيه!! رقم (7425) = (7468) من «طبعة المؤسسة». رقم (7426) = (7469) من «طبعة المؤسسة» لكن الحديث ليس موجود بالرقمين المشار إليهما وإنما موجود بالأرقام التالية. رقم (4725) = (4745) من «طبعة المؤسسة». رقم (4726) = (4746) من «طبعة المؤسسة» - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7168»