کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفیہ کی تعظیم اور ان کے حق کی رعایت کا
حدیث نمبر: 7211
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجُوَيْهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ ، قَالَتْ لَهَا : ابْنَةُ يَهُودِيٍّ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهَا وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَمَا يُبْكِيكِ ؟ " ، قَالَتْ : قَالَتْ لِي حَفْصَةُ : إِنِّي بِنْتُ يَهُودِيٍّ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّكِ لابْنَةُ نَبِيٍّ ، وَإِنَّ عَمَّكِ لِنَبِيٌّ ، وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ ، فَبِمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ ؟ " ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو اس بات کی اطلاع ملی کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کے بارے میں یہ کہا: ہے: وہ ایک یہودی کی بیٹی ہے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو وہ رو رہی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیوں رو رہی ہو۔ انہوں نے عرض کی: حفصہ نے میرے بارے میں یہ کہا: ہے: میں یہودی کی بیٹی ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایک نبی کی اولاد ہو اور تمہارے (آباؤ اجداد میں) ایک چچا نبی تھے اور تم ایک نبی کی بیوی ہو، تو پھر حفصہ کس بات پر تمہارے سامنے فخر کر سکتی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا سے) فرمایا: اے حفصہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7211
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (6183). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7167»