کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7207
أَخْبَرَنَا شَبَّابُ بْنُ صَالِحٍ بِوَاسِطٍ ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَانْتَبَهَتُ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَلَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَكَانِهِ ، وَإِذَا أَصْحَابُهُ كَأَنَّ عَلَى رُؤُوسِهِمُ الطَّيْرُ ، وَإِذَا الإِبِلُ قَدْ وَضَعَتْ جِرَانَهَا ، قَالَ : فَنَظَرْتُ ، فَإِذَا أَنَا بِخَيَالٍ ، فَإِذَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ قَدْ تَصَدَّى لِي ، فَقُلْتُ : أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : وَرَائِي ، وَإِذَا أَنَا بِخَيَالٍ ، فَإِذَا هُوَ أَبُو مُوسَى الأَشْعَرِيُّ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَ : وَرَائِي ، فَحَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بن أَبِي مُوسَى ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : فَسَمِعْتُ خَلْفَ أَبِي مُوسَى هَزِيزًا كَهَزِيزِ الرَّحَى ، فَإِذَا أَنَا بِرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ بِأَرْضِ الْعَدُوِّ كَانَ عَلَيْهِ حَرَسٌ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي آتٍ ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " ، فَقَالَ مُعَاذٌ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَرَفْتَ مَنْزِلِي ، فَاجْعَلْنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " أَنْتَ مِنْهُمْ " ، قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ ، وَأَبُو مُوسَى : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ عَرَفْتَ أَنَّا تَرَكْنَا أَمْوَالَنَا وَأَهْلِينَا ، وَذَرَارِيَّنَا نُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ، فَاجْعَلْنَا مِنْهُمْ ، قَالَ : " أَنْتُمَا مِنْهُمْ " ، قَالَ : فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ ، وَقَدْ ثَارُوا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي ، فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أَمَّتِي الْجَنَّةَ ، وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ ، فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ " ، فَقَالَ الْقَوْمُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْنَا مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " أَنْصِتُوا " ، فَنَصَتُوا حَتَّى كَأَنَّ أَحَدًا لَمْ يَتَكَلَّمْ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ لِمَنْ مَاتَ لا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا " .
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک تھے ایک رات میں آیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رہائش کی جگہ پر مجھے نظر نہیں آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا معاملہ یوں ہوتا تھا جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں جب کہ اونٹوں نے گردنیں جھکا دی تھیں۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دیکھا ابھی میں اسی پریشانی میں تھا کہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ میرے سامنے آئے میں نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں۔ انہوں نے جواب دیا: میرے پیچھے ہیں میں ابھی اسی حالت میں تھا کہ وہ ابوموسیٰ اشعری تھے، میں نے دریافت کیا: اللہ کے رسول کہاں ہیں؟ انہوں نے کہا: میرے پیچھے ہیں۔
حمید بن ہلال نامی راوی نے اپنی سند کے ساتھ سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے میں نے اپنے پیچھے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی آواز یوں سنی، جس طرح چکی پیسنے کی آواز ہوتی ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دشمن کی سرزمین پر ہوں تو آپ کا کوئی محافظ ہونا چاہئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے پاس ایک شخص (یعنی فرشتہ) آیا اس نے مجھے دو باتوں میں سے ایک بات کا اختیار دیا، یا یہ میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا پھر شفاعت (کے نتیجے میں بے شمار لوگ جنت میں داخل ہوں) تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ میری حیثیت سے واقف ہیں مجھے بھی ان میں شامل کر لیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ان میں سے ایک ہو۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ یہ بات جانتے ہیں کہ ہم نے اپنی زمین اور بال بچے چھوڑ دیئے ہم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتے ہیں آپ ہمیں بھی ان میں شامل کر لیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں بھی ان میں شامل ہو۔ راوی کہتے ہیں: ہم لوگوں کے پاس آئے جو بیدار ہو چکے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے پاس میرے پروردگار کی طرف سے ایک شخص (یعنی فرشتہ) آیا، تو اس نے مجھے اس بات کا اختیار دیا کہ میری امت کا نصف حصہ جنت میں داخل ہو جائے یا پھر شفاعت ہو، تو میں نے شفاعت کو اختیار کر لیا۔ حاضرین نے عرض کی: ہمیں بھی ان میں شامل کیجئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ خاموش رہو۔ وہ لوگ خاموش ہو گئے، یہاں تک کہ یوں لگتا تھا جیسے کسی نے کوئی بات نہیں کرنی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ شفاعت ہر اس شخص کے لیے ہو گی، جو ایسی حالت میں فوت ہو کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھہراتا ہو۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7207
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «ظلال الجنة» (819)، «التعليق الرغيب» (4/ 215). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7163»