کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 7193
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " يَقْدَمُ عَلَيْكُمْ قَوْمٌ أَرَقُّ مِنْكُمْ قُلُوبًا " ، فَقَدِمَ الأَشْعَرِيُّونَ ، وَفِيهِمْ أَبُو مُوسَى ، فَكَانُوا أَوَّلَ مَنْ أَظْهَرَ الْمُصَافَحَةَ فِي الإِسْلامِ ، فَجَعَلُوا حِينَ دَنَوَا الْمَدِينَةَ يَرْتَجِزُونَ وَيَقُولُونَ : غَدًا نَلْقَى الأَحِبَّةَ مُحَمَّدًا وَحِزْبَهُ .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے پاس کچھ لوگ آئیں گے جن کے دل انتہائی نرم ہوں گے، تو اشعر قبیلے کے لوگ آ گئے ان میں سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی تھے یہ وہ پہلے لوگ ہیں، جنہوں نے اسلام میں مصافحہ کرنے کا آغاز کیا جب یہ لوگ مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو یہ لوگ یہ رجز پڑھ رہے تھے اور یہ کہ رہے تھے۔ ” کل ہم اپنے محبوب لوگوں سے یعنی سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ان کے ساتھیوں سے ملاقات کریں گے۔ “
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7193
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - المصدر نفسه. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7149»