کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر ام سلیم، انس بن مالک کی والدہ رضی اللہ عنہا کا
حدیث نمبر: 7185
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أُمَّ سُلَيْمِ ، خَرَجَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهَا خِنْجَرٌ ، فَقَالَ لَهَا أَبُو طَلْحَةَ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، مَا هَذَا ؟ قَالَتِ : اتَّخَذْتُهُ وَاللَّهِ إِنْ دَنَا مِنِّي رَجُلٌ بَعَجْتُ بِهِ بَطْنَهُ ، فَقَالَ أَبُو طَلْحَةَ : أَلا تَسْمَعُ مَا تَقُولُ أُمُّ سُلَيْمٍ ، تَقُولُ كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنَ الطُّلَقَاءِ انْهَزَمُوا بِكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَمُّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَفَى وَأَحْسَنَ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: غزوہ حنین کے موقع پر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئیں ان کے پاس ایک خنجر تھا۔ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا: اے ام سلیم یہ کس لیے ہے۔ انہوں نے کہا: میں نے اسے اس لیے رکھا ہے اللہ کی قسم اگر کوئی شخص میرے قریب آیا تو میں اسے اس کے پیٹ میں گھونپ دوں گی، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: (یا رسول اللہ!) کیا آپ نے سنا کہ ام سلیم کیا کہہ رہی ہے، اس نے یہ یہ بات کہی ہے۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ ان لوگوں کو قتل کروا دیں، جو لوگ بعد میں مسلمان ہوئے اور وہ آپ کو چھوڑ کے پسپا ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ام سلیم! اللہ تعالیٰ نے کفایت کی اور اچھا (نتیجہ ظاہر کیا)۔