کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7173
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَرَبَاحٌ غُلامُهُ أُنَدِّيهِ مَعَ الإِبِلِ ، فَلَمَّا كَانَ بِغَلَسٍ أَغَارَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُيَيْنَةَ عَلَى إِبِلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَتْلَ رَاعِيَهَا ، وَخَرَجَ يَطْرُدُ بِهَا وَهُوَ فِي أُنَاسٍ مَعَهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَبَاحُ ، اقْعُدْ عَلَى هَذَا الْفَرَسِ ، وَأَلْحِقْهُ بِطَلْحَةَ ، وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قَدْ أُغِيرَ عَلَى سَرْحِهِ ، قَالَ : وَقُمْتُ عَلَى تَلٍّ ، فَجَعَلْتُ وَجْهِي قِبَلَ الْمَدِينَةِ ، ثُمَّ نَادَيْتُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ : يَا صَبَاحَاهُ ، ثُمَّ اتَّبَعْتُ الْقَوْمَ مَعِي سَيْفِي وَنَبْلِي ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَرْتَجِزُهُمْ ، وَذَلِكَ حِينَ كَثُرَ الشَّجَرُ ، فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ جَلَسْتُ لَهُ فِي أَصْلِ شَجَرَةٍ ، ثُمَّ رَمَيْتُهُ ، وَلا يُقْبِلُ عَلَيَّ فَارِسٌ ، إِلا عَقَرْتُ بِهِ ، فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِ وَأَقُولُ : أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ بِرَجُلٍ فَأَرْمِيهِ وَهُوَ عَلَى رَحْلِهِ ، فَيَقَعُ سَهْمِي فِي الرَّحْلِ حَتَّى انْتَظَمْتُ كَتِفَهُ ، قُلْتُ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَإِذَا كُنْتُ فِي الشَّجَرِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ ، وَإِذَا تَضَايَقَتِ الثَّنَايَا عَلَوْتُ الْجَبَلَ وَرَدَّيْتُهُمْ بِالْحِجَارَةِ ، فَمَا زَالَ ذَلِكَ شَأْنِي وَشَأْنَهُمُ أَتْبَعُهُمْ ، وَأَرْتَجِزُ حَتَّى مَا خَلَقَ اللَّهُ شَيْئًا مِنْ ظَهْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، إِلا خَلَّفْتُهُ وَرَاءَ ظَهْرِي ، وَاسْتَنْقَذْتُهُ مِنْ أَيْدِيهِمْ ، ثُمَّ لَمْ أَزَلْ أَرْمِيهِمْ حَتَّى أَلْقَوْا أَكْثَرَ مِنْ ثَلاثِينَ رُمْحًا وَأَكْثَرَ مِنْ ثَلاثِينَ بُرْدَةً يَسْتَخِفُّونَ بِهَا ، لا يُلْقُونَ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا إِلا جَمَعْتُ عَلَيْهِ الْحِجَارَةَ ، وَجَمَعْتُهُ عَلَى طَرِيقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا امْتَدَّ الضُّحَى أَتَاهُمْ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ مُمِدًّا لَهُمْ وَهُمْ فِي ثَنِيَّةٍ ضَيِّقَةٍ ، ثُمَّ عَلَوْتُ الْجَبَلَ ، قَالَ عُيَيْنَةَ وَأَنَا فَوْقَهُمْ : مَا هَذَا الَّذِي أَرَى ؟ قَالُوا : لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ ، مَا فَارَقَنَا مُنْذُ سَحَرَ حَتَّى الآنَ وَأَخَذَ كُلَّ شَيْءٍ مِنْ أَيْدِينَا ، وَجَعَلَهُ وَرَاءَهُ ، فَقَالَ عُيَيْنَةُ : لَوْلا أَنَّ هَذَا يَرَى وَرَاءَهُ طَلَبًا لَقَدْ تَرَكَكُمْ ، فَلْيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْكُمْ ، فَقَامَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ ، فَصَعِدُوا فِي الْجَبَلِ ، فَلَمَّا أَسْمَعْتُهُمُ الصَّوْتَ ، قُلْتُ لَهُمْ : أَتَعْرِفُونِي ؟ قَالُوا : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ ، وَالَّذِي كَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْكُمْ فَيُدْرِكُنِي ، وَلا أَطْلُبُهُ فَيَفُوتُنِي ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ : أَظُنُّ ، قَالَ : فَمَا بَرِحْتُ مَقْعَدِي حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى فَوَارِسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ ، وَإِذَا أَوَّلُهُمُ الأَخْرَمُ الأَسَدِيُّ ، وَعَلَى إِثْرِهِ أَبُو قَتَادَةَ ، وَعَلَى إِثْرِهِ الْمِقْدَادُ الْكِنْدِيُّ ، قَالَ : فَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ مُدْبِرِينَ ، فَأَنْزِلُ مِنَ الْجَبَلِ ، فَأَعْتَرِضُ الأَخْرَمَ ، فَقُلْتُ : يَا أَخْرَمُ ، احْذَرْهُمْ فَإِنِّي لا آمَنُ أَنْ يَقْتَطِعُوكَ ، فَاتَّئِدْ حَتَّى يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ ، قَالَ : يَا سَلَمَةُ ، إِنْ كُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ ، وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ ، وَأَنَّ النَّارَ حَقٌّ ، فَلا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ ، قَالَ : فَخَلَّى عِنَانَ فَرَسِهِ ، فَلَحِقَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُيَيْنَةَ ، وَيَعْطِفُ عَلَيْهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، فَاخْتَلَفَا فِي طَعْنَتَيْنِ ، فَعَقَرَ الأَخْرَمُ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ ، وَتَحَوَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَلَى فَرَسِ الأَخْرَمِ ، فَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ ، فَاخْتَلَفَا فِي طَعْنَتَيْنِ ، فَعَقَرَ بِأَبِي قَتَادَةَ ، وَقَتْلَهُ أَبُو قَتَادَةَ ، وَتَحَوَّلَ أَبُو قَتَادَةَ عَلَى فَرَسِ الأَخْرَمِ ، ثُمَّ إِنِّي خَرَجْتُ أَعْدُو فِي إِثْرِ الْقَوْمِ حَتَّى مَا أَرَى مِنْ غُبَارِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَيُعْرِضُونَ قَبْلَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ إِلَى شِعْبٍ فِيهِ مَاءٌ يُقَالُ لَهُ : ذُو قَرَدٍ ، فَأَرَادُوا أَنْ يَشْرَبُوا مِنْهُ ، فَأَبْصَرُونِي أَعْدُو وَرَاءَهُمْ ، فَعَطَفُوا عَنْهُ ، وَشُدُّوا فِي الثَّنِيَّةِ ثَنِيَّةِ ذِي ثَبِيرٍ وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ ، فَأَلْحَقُ رَجُلا فَأَرْمِيهِ ، قُلْتُ : خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الأَكْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ : يَا ثَكِلَتْنِي أُمِّي أَأَكُوعُ بَكْرَةَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ أَيْ عَدُوَّ نَفْسِهِ ، وَكَانَ الَّذِي رَمَيْتُهُ بَكْرَةَ ، وَأَتْبَعْتُهُ بِسَهْمٍ آخَرَ ، فَعَلِقَ فِيهِ سَهْمَانِ وَخَلَّفُوا فَرَسَيْنِ ، فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ عَلَى الْمَاءِ الَّذِي عِنْدَ ذِي قَرَدٍ ، فَإِذَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جَمَاعَةٍ ، وَإِذَا بِلالٌ قَدْ نَحَرَ جَزُورًا مِمَّا خَلَّفْتُ وَهُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ كَبِدِهَا وَسَنَامِهَا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَلِّنِي فَأَنْتَخِبَ مِنْ أَصْحَابِكَ مِائَةَ رَجُلٍ ، وَآخُذَ عَلَى الْكُفَّارِ ، فَلا أُبْقِي مِنْهُمْ مُخْبِرًا ، إِلا قَتَلْتُهُ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُنْتَ فَاعِلا ذَلِكَ يَا سَلَمَةُ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، وَالَّذِي أَكْرَمَ وَجْهَكَ ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ فِي ضَوْءِ النَّارِ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهُمْ يُقْرَوْنَ الآنَ إِلَى أَرْضِ غَطَفَانَ " ، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ ، فَقَالَ : نَزَلُوا عَلَى فُلانٍ الْغَطَفَانِيِّ ، فَنَحَرَ لَهُمْ جَزُورًا ، فَلَمَّا أَخَذُوا يَكْشِطُونَ جِلْدَهَا رَأَوْا غَبَرَةً ، فَتَرَكُوهَا وَخَرَجُوا هُرَّابًا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَيْرُ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ ، وَخَيْرُ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ " ، فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ الرَّاجِلِ وَالْفَارِسِ جَمِيعًا ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَنِي وَرَاءَهُ عَلَى الْعَضْبَاءِ رَاجِعِينَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، فَلَمَّا كَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ قَرِيبٌ مِنْ ضَحْوَةٍ ، وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ كَانَ لا يُسْبَقُ ، فَجَعَلَ يُنَادِي : هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ ، أَلا رَجُلٌ يُسَابِقُ إِلَى الْمَدِينَةِ ؟ فَعَلَ ذَلِكَ مِرَارًا وَأَنَا وَرَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، خَلِّنِي فَلأُسَابِقَ الرَّجُلَ ، قَالَ : " إِنْ شِئْتَ " ، قُلْتُ : اذْهَبْ إِلَيْكَ فَطَفَرَ عَنْ رَاحِلَتِهِ وَثَنَيْتُ رِجْلِي ، فَطَفَرْتُ عَنِ النَّاقَةِ ، ثُمَّ إِنِّي رَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا ، أَوْ شَرَفَيْنِ يَعْنِي : اسْتَبْقَيْتُ نَفْسِي ، ثُمَّ عَدَوْتُ حَتَّى أَلْحَقَهُ ، فَأَصُكُّ بَيْنَ كَتِفَيْهِ بِيَدِي ، وَقُلْتُ : سُبِقْتَ وَاللَّهِ ، حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ .
ایاس بن سلمہ، اپنے والد (سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: حدیبیہ کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ آیا میں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رباح اونٹوں کو ساتھ لے کر نکلے، جب کچھ اندھیرا چھا گیا تو عبدالرحمن بن عیینہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اونٹوں پر حملہ کر کے ان کے چرواہے کو قتل کر دیا اور وہ ان اونٹوں کو ساتھ لے کر روانہ ہو گیا اس کے ساتھ کچھ دوسرے لوگ بھی تھے میں نے کہا: اے رباح تم اس گھوڑے پر سوار ہو جاؤ اور اسے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لے جاؤ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بتاؤ کہ آپ کے اونٹوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں ایک ٹیلے پر چڑھا میں نے اپنا چہرہ مدینہ منورہ کی طرف کیا اور پھر میں نے تین مرتبہ بلند آواز میں پکارا ” خطرہ ہے “ پھر میں ان لوگوں کے پیچھے چل پڑا میرے پاس تلوار بھی تھی اور نیزہ بھی تھا میں انہیں نیزہ مارتا اور انہیں رجز پڑھ کے سناتا، یہاں تک کہ ہم ایک ایسی جگہ پہنچ گئے جہاں درخت زیادہ تھے اسی دوران ایک گھڑ سوار پلٹ کر میری طرف آیا میں اس کا (مقابلہ کرنے کے لئے) درخت کے تنے کے پاس بیٹھ گیا پھر میں نے اسے تیر مارا، تو پھر کوئی گھڑ سوار میری طرف نہیں آیا مگر یہ کہ میں نے اس کے گھوڑے کے پاؤں کاٹ دیئے میں تیر مارتا جاتا تھا اور یہ کہتا جاتا تھا میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ میں ایک شخص کے پاس آیا اور میں نے اسے تیر مارا وہ اپنی سواری پر تھا میرا تیر اس سواری پر لگا، یہاں تک کہ اس کے کندھے کے اندر جا کر لگ گیا، تو میں نے کہا: لو سنبھالو! میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے جب میں درختوں میں ہوتا تو میں انہیں تیر مارتا اور جب گھاٹیاں تنگ ہو جاتیں تو میں پہاڑ پر چڑھ جاتا اور انہیں پتھر مارتا میرا اور ان کا معاملہ یوں ہی چلتا رہا میں ان کے پیچھے جاتا رہا انہیں رجز پڑھ کے سناتا رہا، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر اونٹنی کو میں نے ان کے ہاتھوں سے چھین لیا، میں پھر بھی مسلسل انہیں تیر مارتا رہا، یہاں تک کہ میں نے ان سے تیس سے زیادہ نیزے اور تیس سے زیادہ چادریں بھی چھین لیں وہ اپنا وزن ہلکا کر رہے تھے وہ جو بھی چیز ڈالتے تھے میں اس پر پتھر رکھ دیتا تھا اور میں اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے کے لئے اکٹھا کر دیتا تھا، یہاں تک کہ جب دن چڑھ آیا تو ان لوگوں کے پاس ان کی مدد کرنے کے لئے عیینہ بن بدر فزاری آ گیا وہ لوگ اس وقت ایک تنگ گھاٹی میں تھے میں پہاڑ پر چڑھ گیا عیینہ نے کہا: یہ کون ہے میں اس وقت ان لوگوں کے اوپر تھا ان لوگوں نے بتایا: ہم بڑی دیر سے اس کے حوالے سے پریشان ہیں جب سے صبح ہوئی ہے اس نے ہماری جان نہیں چھوڑی اور یہ وقت ہو گیا ہے، اس نے ہمارے پاس موجود ہر چیز حاصل کر لی ہے اور ان چیزوں کو اپنے پیچھے رکھ لیا ہے۔ عیینہ نے کہا: اگر اسے اپنے پیچھے سے حملہ کرنے والے نظر آ گئے تو یہ تمہیں چھوڑ دے گا۔ تم میں سے کچھ لوگ اٹھ کر اس کے پاس جائیں ان میں سے چار آدمی اٹھ کر ان کی طرف گئے وہ لوگ پہاڑ پر چڑھ گئے جب میری آواز ان تک پہنچ گئی تو میں نے ان سے کہا: کیا تم لوگ مجھے جانتے ہو۔ ان لوگوں نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں اکوع کا بیٹا ہوں اس ذات کی قسم جس نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اور ان کے چہرے کو عزت بخشی ہے تم میں سے جو شخص بھی میری تلاش میں آئے گا وہ مجھ تک پہنچ نہیں پائے گا اور جسے میں تلاش کروں گا وہ مجھ سے اوجھل نہیں رہ سکے گا ان میں سے ایک شخص نے کہا: میرا خیال ہے (ایسا ہی ہے) سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: تو میں اس جگہ پر بیٹھا رہا یہاں تک کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھڑ سواروں کو دیکھ لیا جو درختوں کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے آ رہے تھے ان میں سب سے آگے اخرم اسدی تھے ان کے پیچھے ابوقتادہ تھے ان کے پیچھے مقداد کندی تھے۔ راوی کہتے ہیں تو مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے میں پہاڑ سے نیچے اترا میں اخرم کے سامنے آیا میں نے کہا: اے اخرم ان سے بچنے کی کوشش کرو کیونکہ مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہ تمہیں نقصان پہنچا سکتے ہیں تم ذرا ٹھہر جاؤ جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب تشریف نہیں لے آتے۔ تو اخرم نے کہا: اے سلمہ اگر تم اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور یہ بات جانتے ہو کہ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے تو میرے اور شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ بنو۔ راوی کہتے ہیں: تو سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ نے ان کے گھوڑے کی لگام چھوڑ دی وہ عبدالرحمن بن عیینہ کے پاس پہنچے۔ عبدالرحمن نے ان پر حملہ کیا ان دونوں کے نیزے ٹکرائے، تو اخرم نے عبدالرحمن کے جانور کے پاؤں کاٹ دیئے اور عبدالرحمن نے انہیں زخمی کر دیا اور انہیں شہید کر دیا پھر عبدالرحمن اخرم کے گھوڑے پر سوار ہوا پھر سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ عبدالرحمن کے پاس پہنچے ان دونوں کے نیزے ایک دوسرے سے ٹکرائے اس نے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے جانور کے پاؤں کاٹ دیئے تو سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے اسے مار دیا۔ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اخرم کے گھوڑے پر سوار ہو کر واپس آئے پھر میں ان لوگوں کے پیچھے چلتا ہوا روانہ ہوا یہاں تک کہ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے غبار میں سے کوئی چیز نظر نہیں آئی جب کہ دشمن سورج غروب ہونے سے کچھ پہلے گھاٹی میں پہنچا جہاں پانی موجود تھا اس جگہ کو ذوقرد کہتے تھے۔ انہوں نے وہاں سے پانی پینے کا ارادہ کیا جب انہوں نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے آ رہا ہوں، تو انہوں نے اس جگہ کو چھوڑا اور اس گھاٹی کی طرف آئے جو ذی سبیل کی گھاٹی تھی اسی دوران سورج غروب ہو گیا میں ایک شخص کے پاس پہنچا میں نے اسے تیر مارا میں نے کہا: لو اسے سنبھالو! میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کمینوں کی ہلاکت کا دن ہے، تو اس نے کہا: میری ماں مجھے روئے، کیا اکوع صبح والا؟ میں نے کہا: ہاں اے اپنی جان کے دشمن یہ وہی شخص تھا، جسے میں نے صبح کے وقت تیر مارا تھا میں نے اسے دوسرا تیر مارا تو اسے دو تیر لگے، تو اس نے دو گھوڑے چھوڑے۔ میں ان دونوں کو لے کر ہانک کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت ذی قرد پانی کے پاس موجود تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ ساتھیوں سمیت تھے وہاں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ تھے جنہوں نے ان میں سے ایک اونٹ کو قربان کر دیا تھا جنہیں میں نے پیچھے چھوڑا تھا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اس کا کلیجہ اور ران بھون رہے تھے۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے اصحاب میں سے ایک سو آدمیوں کو منتخب کروں اور پھر کفار پر حملہ کر دوں میں ان میں سے کسی بھی اطلاع دینے والے کو نہیں چھوڑوں گا مگر یہ کہ اسے قتل کر دوں گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے سلمہ کیا تم نے ایسا کیا ہے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں اس ذات کی قسم جس نے آپ کے چہرے کو عزت بخشی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیئے یہاں تک کہ مجھے آگ کی روشنی میں آپ کے اطراف کے دانت نظر آئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ لوگ اب غطفان کی سرزمین پر پہنچ گئے ہوں گے پھر غطفان سے ایک شخص آیا اس نے بتایا: ان لوگوں نے فلاں غطفانی کے ہاں پڑاؤ کیا ہے اس نے ان لوگوں کے لئے اونٹ قربان کیا ہے وہ لوگ اس کی کھال اتارنے لگے تو انہوں نے غبار دیکھا انہوں نے اسے چھوڑ دیا اور بھاگ کھڑے ہوئے۔ اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہمارے گھڑ سواروں میں آج سب سے بہتر ابوقتادہ ہے اور ہمارے پیدل لوگوں میں آج سب سے بہتر سلمہ ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پیادہ شخص اور گھڑ سوار دونوں کا حصہ عطا کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے اپنی اونٹنی عضباء پر سوار کیا اور ہم لوگ مدینہ منورہ کی طرف واپس آ گئے ابھی ہم مدینہ منورہ سے کچھ فاصلے پر تھے کہ حاضرین میں سے ایک صاحب جن کا تعلق انصار سے تھا اور کوئی بھی دوڑ میں ان سے آگے نہیں نکل سکتا تھا اس نے بلند آواز میں کہنا شروع کیا: کیا کوئی مقابلہ کرنے والا ہے کیا کوئی مدینہ منورہ تک دوڑ کا مقابلہ کرے گا۔ انہوں نے کئی مرتبہ یہ اعلان کیا، میں اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے موجود تھا میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس شخص کے ساتھ دوڑ کا مقابلہ کروں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم چاہو (تو کر لو) میں نے اس انصاری سے کہا: چلو (میں تمہارا مقابلہ کرتا ہوں) وہ اپنی سواری سے اترا، میں نے اپنی ٹانگ موڑی اور اونٹنی سے اتر آیا، پھر میں نے اسے ایک یا دو ٹیلوں تک آگے نکلنے کا موقع دیا (پوری قوت سے دوڑ لگائی) اور اس تک پہنچ گیا۔ میں نے اپنے ہاتھ کے ذریعے اس کے دونوں کندھوں کے درمیان مارا اور کہا: اللہ کی قسم تم ہار گئے ہو، یہاں تک کہ ہم مدینہ منورہ آ گئے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7173
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - «تخريج الفقه» (343): م، وله تتمة تقدمت برقم (6896). تنبيه!! رقم (6896) = (6935) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7129»