کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس وجہ کا جس کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو زید کے لیے حسن کی دعا کی
حدیث نمبر: 7172
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الشَّرْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو نَهِيكٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَخْطَبَ ، قَالَ : اسْتَسْقَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَتَيْتُهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ وَفِيهِ شَعْرَةٌ فَرَفَعْتُهَا فَنَاوَلْتُهُ ، فَنَظَرَ إِلَيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ جَمِّلْهُ " . قَالَ : فَرَأَيْتُهُ وَهُوَ ابْنُ ثَلاثٍ وَتِسْعِينَ وَمَا فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ شَعْرَةٌ بَيْضَاءُ .
سیدنا عمرو بن اخطب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب کیا میں ایک برتن لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں پانی موجود تھا اور اس میں بال بھی تھا میں نے اسے اٹھایا اور اسے پکڑ لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف دیکھ رہے تھے آپ نے ارشاد فرمایا: اے اللہ اسے جمال عطا کر۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں 93 سال کی عمر میں دیکھا اس وقت بھی ان کے سر اور داڑھی میں کوئی بال سفید نہیں تھا۔
راوی بیان کرتے ہیں: میں نے انہیں 93 سال کی عمر میں دیکھا اس وقت بھی ان کے سر اور داڑھی میں کوئی بال سفید نہیں تھا۔