کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 7164
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِقَصْعَةٍ ، فَأَصَبْنَا مِنْهَا ، فَفَضَلَتْ فَضْلَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَطْلُعُ رَجُلٌ مِنْ هَذَا الْفَجِّ يَأْكُلُ هَذِهِ الْقَصْعَةَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " ، فَقَالَ سَعْدٌ : وَكُنْتُ تَرَكْتُ أَخِي عُمَيْرًا يَتَطَهَّرُ ، فَقُلْتُ : هُوَ أَخِي ، فَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلامٍ فَأَكَلَهَا .
مصعب بن سعد اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک پیالہ لایا گیا ہم نے اس میں سے کھا لیا پھر کچھ بچ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس راستے سے تمہارے سامنے ایک شخص آئے گا، جو اس پیالے میں سے کھائے گا اور وہ جنتی ہو گا۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں اپنے بھائی عمیر کو وضو کرتا ہوا چھوڑ کے آیا تھا میں نے سوچا وہ میرا بھائی ہی ہو گا لیکن عبداللہ بن سلام تشریف لے آئے اور انہوں نے وہ کھانا کھایا۔