کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس خبر کا جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ ابو ہریرہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صرف ایک سال صحبت کی
حدیث نمبر: 7156
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَيْبَرَ ، وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي غِفَارَ يَؤُمُّهُمْ فِي الصُّبْحِ ، فَقَرَأَ فِي الأَوَّلى كهيعص ، وَفِي الثَّانِيَةِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ ، وَكَانَ عِنْدَنَا رَجُلٌ لَهُ مِكْيَالانِ : مِكْيَالٌ كَبِيرٌ ، وَمِكْيَالٌ صَغِيرٌ ، يُعْطِي بِهَذَا وَيَأْخُذُ بِهَذَا " ، فَقُلْتُ : وَيْلٌ لِفُلانٍ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب میں مدینہ منورہ آیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت خیبر میں موجود تھے بنو غفار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص صبح کی نماز میں لوگوں کی امامت کر رہا تھا اس نے پہلی رکعت میں سورت مریم کی تلاوت کی دوسری رکعت میں سورت مطففین کی تلاوت کی ہمارے ہاں ایک شخص ہوتا تھا، جس کے پاس دو قسم کے پیمانے تھے ایک بڑا پیمانہ تھا اور ایک چھوٹا تھا وہ ایک کے ذریعے ماپ کر دیتا تھا اور دوسرے کے ذریعے وصول کیا کرتا تھا (میرے ذہن میں اس کا خیال آیا) تو میں نے کہا: فلاں شخص تو برباد ہو گیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7156
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (2965). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7112»