کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس بیان کا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر کو اونٹ ہبہ کے طور پر واپس کیا جب اس کی قیمت ادا کر دی
حدیث نمبر: 7143
أَخْبَرَنَا أَبُو عَرُوبَةَ بِحَرَّانَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ ، فَأَبْطَأَ عَلَيَّ جَمَلِي ، فَأَعْيَا عَلَيَّ ، فَأَتَى عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " يَا جَابِرُ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " مَا شَأْنُكَ ؟ " ، قُلْتُ : أَبْطَأَ بِي جَمَلِي ، وَأَعْيَا ، فَتَخَلَّفْتُ ، فَنَزَلْتُ فَحَجَنَهُ بِمِحْجَنِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ارْكَبْ " ، فَرَكِبْتُهُ ، فَلَقَدْ رَأَيْتُنِي أَكُفُّهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَزَوَّجْتَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَهَلا جَارِيَةً تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ " ، قُلْتُ : إِنَّ لِي أَخَوَاتٍ أَحْبَبْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ مَنْ تَجْمَعُهُنَّ وَتَمْشُطُهُنَّ وَتَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّكَ قَادِمٌ ، فَإِذَا قَدِمْتَ ، فَالْكَيْسَ الْكَيْسَ " ، ثُمَّ قَالَ : " أَتَبِيعُ جَمَلَكَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، فَاشْتَرَاهُ مِنِّي بِأُوقِيَّةٍ ، ثُمَّ قَدِمَ الْمَسْجِدَ ، فَوَجَدْتُهُ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : " الآنَ قَدِمْتَ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَدَعْ جَمَلَكَ ، وَادْخُلِ الْمَسْجِدَ فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ " ، فَدَخَلْتُ ، فَصَلَّيْتُ ، فَأَمَرَ بِلالا أَنْ يَزِنَ لِي أُوقِيَّةً فَوَزَنَ لِي ، قَالَ : فَأَرْجَحَ فِي الْمِيزَانِ ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا وَلَّيْتُ ، قَالَ : " ادْعُ لِي جَابِرًا " ، قُلْتُ : الآنَ يَرُدُّ عَلَيَّ الْجَمَلَ ، وَلَمْ يَكُنْ شَيْءٌ أَبْغَضُ إِلَيَّ مِنْهُ ، قَالَ : " خُذْ جَمَلَكَ وَلَكَ ثَمَنُهُ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں شریک ہوا میرا اونٹ آہستہ چل رہا تھا اور وہ تھک چکا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے آپ نے فرمایا: اے جابر! میں نے عرض کی: جی! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا کیا معاملہ ہے۔ میں نے عرض کی: میرا اونٹ آہستہ چل رہا ہے اور یہ تھک چکا ہے، اس لیے میں پیچھے چل رہا ہوں پھر میں اونٹ سے نیچے اتر گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چھڑی کے ذریعے اسے مارا آپ نے فرمایا: اب تم سوار ہو جاؤ۔ میں سوار ہوا، تو میں نے دیکھا میں اس اونٹ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکلنے سے روک رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے شادی کر لی ہے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ آپ نے فرمایا: کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ۔ میں نے عرض کی: ثیبہ کے ساتھ۔ آپ نے فرمایا: کنواری کے ساتھ کیوں نہیں کی تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے وہ تمہارے ساتھ خوش فعلیاں کرتی۔ میں نے عرض کی: میری کچھ بہنیں ہیں اس لیے میں نے یہ چاہا کہ میں کسی ایسی خاتون کے ساتھ شادی کروں جو ان کا خیال رکھے ان کی کنگھی کرے اور ان کی دیکھ بھال کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم (اپنے گھر) واپس جانے لگے ہو، اگر تم جاؤ تو سمجھ داری کا مظاہرہ کرنا پھر آپ نے دریافت کیا: کیا تم اپنا اونٹ فروخت کرو گے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اوقیہ کے عوض میں اسے مجھ سے خرید لیا پھر آپ مسجد تشریف لائے میں نے آپ کو مسجد کے دروازے پر پایا، آپ نے دریافت کیا: تم اب آئے ہو۔ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنا اونٹ چھوڑ دو اور تم مسجد میں جاؤ اور دو رکعت ادا کرو۔ میں مسجد کے اندر آیا میں نے نماز ادا کی پھر آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو یہ حکم دیا کہ وہ ایک اوقیہ وزن کر کے مجھے دیدے انہوں نے مجھے وزن کر کے دیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ترازو میں پلڑے کو بھاری رکھنا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں وہاں سے روانہ ہوا میں وہاں سے مڑ گیا، تو آپ نے فرمایا: جابر کو میرے پاس بلا کر لاؤ۔ میں نے سوچا اب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اونٹ بھی واپس کر دیں گے اور میرے نزدیک یہ بات انتہائی ناپسندیدہ تھی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا اونٹ حاصل کر لو اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہوئی۔