کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر جابر بن عبد اللہ انصاری رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7138
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ جَابِرٍ أَنَّ أَبَاهُ هَلَكَ ، وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ ، أَوْ سَبْعَ بَنَاتٍ ، قَالَ : فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ لِي : " تَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ ؟ " ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : " بِكْرًا أَوْ ثَيِّبًا ؟ " ، قُلْتُ : بَلْ ثَيِّبًا ، قَالَ : " فَهَلا جَارِيَةً تُلاعِبُهَا وَتُلاعِبُكَ ، وَتُضَاحِكُهَا وَتُضَاحِكُكَ ؟ " ، فَقُلْتُ : إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ مَاتَ وَتَرَكَ تِسْعَ بَنَاتٍ أَوْ سَبْعَ بَنَاتٍ ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أَجِيئَهُنَّ بِمِثْلِهِنَّ ، وَأَرَدْتُ امْرَأَةً تَقُومُ عَلَيْهِنَّ ، فَقَالَ لِي : " بَارِكَ اللَّهُ لَكَ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ان کے والد کا انتقال ہو گیا انہوں نے نو بیٹیاں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) سات بیٹیاں (پسماندگان) میں چھوڑیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھ سے دریافت کیا: جابر تم نے شادی کر لی ہے۔ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کنواری کے ساتھ یا ثیبہ کے ساتھ۔ میں نے عرض کی: ثیبہ کے ساتھ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے کسی لڑکی کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی تاکہ تم اس کے ساتھ خوش فعلیاں کرتے اور وہ تمہارے ساتھ خوش فعلیاں کرتی تم اسے ہنساتے اور وہ تمہیں ہنساتی۔ میں نے عرض کی: (میرے والد) سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا انہوں نے نو (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) سات بیٹیاں چھوڑی ہیں، مجھے یہ اچھا نہیں لگا کہ میں ان پر ان کے جیسی (کم عمر) بیوی لے آؤں اس لیے میں نے ایسی عورت کے ساتھ شادی کی ہے جو ان کا خیال رکھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں برکت عطا کرے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7138
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1787)، «الإرواء» (1785). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7094»