کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس بیان کا کہ ابو ذر ابتدائی مہاجرین میں سے تھے
حدیث نمبر: 7133
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، وَعِدَّةٌ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ الْقَيْسِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، قَالَ : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : خَرَجْنَا فِي قَوْمِنَا غِفَارٍ ، وَكَانُوا يَحِلُّونَ الشَّهْرَ الْحَرَامَ ، فَخَرَجْتُ أَنَا وَأَخِي أُنَيْسٌ وَأُمُّنَّا ، فنزلنا على خال لنا ، فأكرمنا خالنا ، وأحسن إلينا ، فحسدنا قومه ، فقالوا إنك إذا خرجت عَنْ أَهْلِكَ ، خَالَفَكَ إِلَيْهِمْ أُنَيْسٌ ، فَجَاءَ خَالُنَا فَذَكَرَ الَّذِي قِيلَ لَهُ ، فَقُلْتُ : أَمَّا مَا مَضَى مِنْ مَعْرُوفِكَ ، فَقَدْ كَدَّرْتَهُ ، وَلا حَاجَةَ لَنَا فِيمَا بَعْدُ ، قَالَ : فَقَدَّمْنَا صِرْمَتَنَا ، فَاحْتَمَلْنَا عَلَيْهَا ، فَانْطَلَقْنَا حَتَّى نَزَلْنَا بِحَضْرَةِ مَكَّةَ ، قَالَ : وَقَدْ صَلَّيْتُ يَا ابْنَ أَخِي قَبْلَ أَنْ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قُلْتُ : لِمَنْ ؟ قَالَ : لِلَّهِ ، قُلْتُ : فَأَيْنَ تَوَجَّهُ ؟ قَالَ : أَتَوَجَّهُ حَيْثُ يُوَجِّهُنِي رَبِّي ، أُصَلِّي عَشِيًّا ، حَتَّى إِذَا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ أُلْقِيتُ حَتَّى تَعْلُوَنِي الشَّمْسُ ، قَالَ أُنَيْسٌ : إِنَّ لِيَ حَاجَةً بِمَكَّةَ ، فَانْطَلَقَ أُنَيْسٌ حَتَّى أَتَى مَكَّةَ ، قَالَ : ثُمَّ جَاءَ ، فَقُلْتُ : مَا صَنَعْتَ ؟ قَالَ : لَقِيتُ رَجُلا بِمَكَّةَ عَلَى دِينِكَ ، يَزْعُمُ أَنَّ اللَّهَ أَرْسَلَهُ ، قَالَ : قُلْتُ : فَمَا يَقُولُ النَّاسُ ؟ قَالَ : يَقُولُونَ : شَاعِرٌ ، كَاهِنٌ ، سَاحِرٌ ، قَالَ : فَكَانَ أُنَيْسٌ أَحَدَ الشُّعَرَاءِ ، قَالَ أُنَيْسُ : لَقَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْكَهَنَةِ ، وَمَا هُوَ بِقَوْلِهِمْ ، وَلَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَهُ عَلَى أَقْرَاءِ الشَّعْرِ ، فَمَا يَلْتَئِمُ عَلَى لِسَانِ أَحَدٍ بَعْدِي أَنَّهُ شِعْرٌ ، وَاللَّهِ إِنَّهُ لَصَادِقٌ ، وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَاكْفِنِي حَتَّى أَذْهَبَ فَأَنْظُرَ ، فَأَتَيْتُ مَكَّةَ ، فَتَضَيَّفْتُ رَجُلا مِنْهُمْ ، فَقُلْتُ : أَيْنَ هَذَا الَّذِي تَدْعُونَهُ الصَّابِئَ ؟ قَالَ : فَأَشَارَ إِلَيَّ ، وَقَالَ : الصَّابِئَ ، قَالَ : فَمَالَ عَلَيَّ أَهْلُ الْوَادِي بِكُلِّ مَدَرَةٍ ، وَعَظْمٍ حَتَّى خَرَرْتُ مَغْشِيًّا عَلَيَّ ، فَارْتَفَعْتُ حِينَ ارْتَفَعْتُ كَأَنِّي نَصْبٌ أَحْمَرٌ ، فَأَتَيْتُ زَمْزَمَ ، فَغَسَلْتُ عَنِّي الدِّمَاءَ ، وَشَرِبْتُ مِنْ مَائِهَا ، وَقَدْ لَبِثْتُ مَا بَيْنَ ثَلاثِينَ مِنْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ مَالِي طَعَامٌ إِلا مَاءُ زَمْزَمَ ، فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي ، وَمَا وَجَدْتُ عَلَى كَبِدِي سُخْفَةَ جُوعٍ ، قَالَ : فَبَيْنَا أَهْلُ مَكَّةَ فِي لَيْلَةٍ قَمْرَاءَ إِضْحِيَانَ إِذْ ضُرِبَ عَلَى أَسْمِخَتِهِمْ ، فَمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ أَحَدٌ ، وَامْرَأَتَانِ مِنْهُمْ تَدْعُوَانِ إِسَافًا وَنَائِلَةَ ، قَالَ : فَأَتَتَا عَلَيَّ فِي طَوَافِهِمَا ، فَقُلْتُ : أَنْكِحَا أَحَدَهُمَا الآخَرَ ، قَالَ : فَمَا تَنَاهَتَا عَنْ قَوْلِهِمَا ، فَأَتَتَا عَلَيَّ ، فَقُلْتُ : هُنَّ مِثْلُ الْخَشَبَةِ ، فَرَجَعَتَا تَقُولانِ : لَوْ كَانَ هَاهُنَا أَحَدٌ ، فَاسْتَقْبَلَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرٍ وَهُمَا هَابِطَانِ ، فَقَالَ : " مَا لَكُمَا ؟ " ، قَالَتَا : الصَّابِئُ بَيْنَ الْكَعْبَةِ وَأَسْتَارِهَا ، قَالا : " مَا قَالَ لَكُمَا ؟ " ، قَالَتَا : إِنَّهُ قَالَ لَنَا كَلِمَةً تَمْلأُ الْفَمَ ، قَالَ : وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَلَمَ الْحَجَرَ ، ثُمَّ طَافَ بِالْبَيْتِ هُوَ وَصَاحِبُهُ ، ثُمَّ صَلَّى ، فَقَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الإِسْلامِ ، قَالَ : " وَعَلَيْكَ رَحْمَةُ اللَّهِ " ، ثُمَّ قَالَ : " مِمَّنْ أَنْتَ ؟ " ، فَقُلْتُ : مِنْ غِفَارٍ ، قَالَ : فَأَهْوَى بِيَدِهِ ، وَوَضَعَ أَصَابِعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : كَرِهَ أَنِّي انْتَمَيْتُ إِلَى غِفَارٍ ، قَالَ : ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ ، وَقَالَ : " مُذْ مَتَى كُنْتَ هَاهُنَا ؟ " ، قَالَ : كُنْتُ هَاهُنَا مِنْ ثَلاثِينَ بَيْنَ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ ، قَالَ : " فَمَنْ كَانَ يُطْعِمُكَ ؟ " ، قُلْتُ : مَا كَانَ لِي طَعَامٌ إِلا مَاءُ زَمْزَمَ ، فَسَمِنْتُ حَتَّى تَكَسَّرَتْ عُكَنُ بَطْنِي ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا مُبَارَكَةٌ ، إِنَّهَا طَعَامُ طُعْمٍ " ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ائْذَنْ لِي فِي طَعَامِهِ اللَّيْلَةَ ، فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ فَانْطَلَقْتُ مَعَهُمَا ، فَفَتَحَ أَبُو بَكْرٍ بَابًا ، فَجَعَلَ يَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِيبِ الطَّائِفِ ، فَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلْتُهُ بِهَا ، ثُمَّ غَبَرْتُ مَا غَبَرْتُ ، ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " إِنَّهُ قَدْ وُجِّهَتْ لِي أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ ، مَا أُرَاهَا إِلا يَثْرِبَ ، فَهَلْ أَنْتَ مُبَلَّغٍ عَنِّي قَوْمَكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَهْدِيَهُمُ بِكَ وَيَأْجُرَكَ فِيهِمْ " ، قَالَ : فَانْطَلَقْتُ فَلَقِيتُ أُنَيْسًا ، فَقَالَ : مَا صَنَعْتَ ؟ قُلْتُ : صَنَعْتُ أَنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، قَالَ : مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكِ ، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، قَالَ : فَأَتَيْنَا أُمَّنَا ، فَقَالَتْ : مَا بِي رَغْبَةٌ عَنْ دِينِكُمَا ، فَإِنِّي قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ، فَاحْتَمَلْنَا حَتَّى أَتَيْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا ، فَأَسْلَمَ نِصْفُهُمْ ، وَكَانَ يَؤُمُّهُمْ إِيمَاءُ بْنُ رَحَضَةَ ، وَكَانَ سَيِّدَهُمْ ، وَقَالَ نِصْفُهُمْ : إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمْنَا ، فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ أَسْلَمَ نِصْفُهُمُ الْبَاقِي ، وَجَاءَتْ أَسْلَمُ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِخْوَانُنَا نُسَلِّمُ عَلَى الَّذِي أَسْلَمُوا عَلَيْهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " غِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا ، وَأَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ " .
عبداللہ بن صامت بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم لوگ اپنی قوم بنو غفار کے ساتھ تھے وہ لوگ حرمت والے مہینوں کو حلال قرار دیتے تھے ایک مرتبہ میں، میرا بھائی انیس اور ہماری والدہ روانہ ہوئے ہم نے اپنے ماموں کے ہاں پڑاؤ کیا ہمارے ماموں نے ہماری عزت افزائی کی انہوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا، تو ان کی قوم کے افراد کو ہم سے حسد ہوا، انہوں نے کہا: جب تم اپنی بیوی کو چھوڑ کر جاتے ہو، تو تمہارے پیچھے انیس ان کے پاس چلا جاتا ہے۔ ہمارے ماموں آئے انہوں نے وہ بات ذکر کی جو ان سے کہی گئی تھی، تو میں نے کہا: آپ نے پہلے جو اچھائی کی تھی وہ آپ نے خود ہی گدلی کر دی ہے اب اس کے بعد ہمیں اس کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ اپنی سواری کے پالان کے پاس آئے ان پر سامان لادا اور روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ ہم مکہ آ گئے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بتایا: اے میرے بھتیجے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات سے پہلے بھی نماز ادا کی ہے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے دریافت کیا: کس کے لیے۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ کے لئے۔ میں نے دریافت کیا: آپ کس طرف رخ کرتے تھے۔ انہوں نے فرمایا: میں اسی طرف رخ کر لیتا تھا، جس طرف میرا پروردگار میرا رخ پھیر دیتا تھا میں شام کے وقت نماز ادا کرتا تھا پھر جب رات کا آخری حصہ ہوتا تھا، تو میں پھر نماز پڑھنے لگتا تھا، یہاں تک کہ سورج مجھ پر غالب آ جاتا تھا۔ انیس نے کہا: مجھے مکہ میں ایک کام ہے انیس چلا گیا وہ مکہ آیا پھر وہ واپس آیا تو میں نے کہا: تم نے کیا کیا۔ اس نے کہا: مکہ میں میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی جو تمہارے دین کی طرح کے نظریات رکھتا ہے وہ اس بات کا دعوے دار ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مبعوث کیا ہے میں نے دریافت کیا: تو لوگ کیا کہتے ہیں۔ اس نے جواب دیا: لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہے کاہن ہے اور جادوگر ہے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انیس بھی شاعر تھا۔ انیس نے کہا: میں نے کاہنوں کا قول سنا ہے لیکن اس شخص کا کلام کاہنوں کے قول کی طرح نہیں ہے۔ میں نے اس کے کلام کو پڑھے لکھے شاعروں کے کلام پر پیش کیا لیکن کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ شعر ہے اللہ کی قسم وہ شخص (اپنے دعوے میں) سچا ہے اور لوگ (اس کے بارے میں) جھوٹ بولتے ہیں۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: میری جگہ تم کفایت کرو میں خود جا کر اس کا جائزہ لیتا ہوں پھر میں مکہ آیا میں وہاں کے ایک شخص کے ہاں مہمان ٹھہرا۔ میں نے دریافت کیا: وہ شخص کہاں ہوتا ہے جس کے بارے میں تم لوگ کہہ رہے ہو کہ وہ بے دین ہے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس شخص نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ بھی بے دین ہے۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں، تو وہاں کے سارے لوگ اینٹیں اور ہڈیاں لے کر مجھ پر حملہ آور ہوئے، یہاں تک کہ میں گر گیا اور مجھ پر بے ہوشی طاری ہو گئی پھر میں اٹھا جب میں اٹھا، تو یوں لگتا تھا جیسے میں سرخ رنگ کا بت ہوں پھر میں زم زم کے پاس آیا میں نے اپنے خون کو دھویا اور زم زم کا پانی پیا پھر میں نے تیس دن ایسی حالت میں گزار دیئے میری خوراک صرف آب زم زم تھا۔ میں اتنا موٹا ہو گیا کہ میرے پیٹ پر سلوٹیں بننے لگیں اور مجھے اپنے جگر پر بھوک کی پریشانی محسوس نہیں ہوتی تھی۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک چاندنی رات میں جب کہ اہل مکہ سو چکے تھے اور کوئی شخص بیت اللہ کا طواف نہیں کر رہا تھا مکہ کی دو عورتیں (طواف کرتے ہوئے) اساف اور نائلہ (نامی بتوں) کو پکار رہی تھیں وہ اپنے طواف کے درمیان جب میرے پاس آئیں، تو میں نے کہا: ان دونوں (بتوں) کی شادی کروا دو لیکن وہ پھر بھی اپنی پکار سے باز نہیں آئیں پھر جب وہ (طواف کرتے ہوئے) میرے پاس پہنچیں تو میں نے کہا: یہ تو لکڑیوں کی مانند ہیں، تو وہ دونوں یہ کہتی ہوئی واپس چلی گئیں کہ کاش یہاں کوئی ہوتا (تو پھر ہم تمہاری خبر لیتے) ان دونوں کا سامنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر سے ہوا یہ دونوں حضرات بالائی علاقے سے نیچے کی طرف آ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم دونوں کا کیا معاملہ ہے۔ ان دونوں نے کہا: ایک بے دین شخص خانہ کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان موجود ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اس نے تم دونوں کو کیا کہا: ہے۔ ان دونوں عورتوں نے جواب دیا: اس نے ہم سے ایسا کلمہ کہا: ہے جو منہ کو بھر دیتا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے حجر اسود کا استلام کیا پھر آپ نے اور آپ کے ساتھی نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر نماز ادا کی۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں وہ پہلا شخص تھا جس نے اسلامی طریقے کے مطابق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر بھی ہو اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بھی نازل ہوں پھر آپ نے دریافت کیا: تمہارا تعلق کون سے قبیلے سے ہے۔ میں نے کہا: غفار قبیلے سے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک بڑھایا اور اپنی انگلیاں اپنی پیشانی پر رکھ لیں میں نے دل میں سوچا شاید انہیں یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میری نسبت غفار قبیلے سے ہے۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور دریافت کیا: تم کب سے یہاں ہو، سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: میں تیس دن اور راتوں سے یہاں ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تمہیں کھانا کون دیتا ہے۔ میں نے کہا: میری خوراک صرف آب زم زم ہے اس کی وجہ سے میں موٹا ہو گیا ہوں، یہاں تک کہ میرے پیٹ پر سلوٹیں پڑنے لگی ہیں۔ راوی کہتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ برکت والا ہے اور کھانے کا کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ مجھے اجازت دیجئے کہ آج رات کھانا انہیں میں کھلاتا ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے ان دونوں حضرات کے ساتھ میں بھی چل پڑا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے دروازہ کھولا انہوں نے طائف کی کشمش مٹھی بھر کر ہمیں دی یہ وہ پہلا کھانا تھا، جو میں نے وہاں (یعنی مکہ میں) کھایا پھر کچھ عرصہ گزر گیا میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: مجھے کھجوروں والی سرزمین کی طرف (ہجرت کرنے کا حکم دیا گیا ہے) میرا خیال ہے وہ یثرب ہی ہو گا، تو کیا تم میری طرف سے اپنی قوم کو تبلیغ کر دو گے ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ تمہاری وجہ سے ان لوگوں کو ہدایت نصیب کر دے اور ان کے حوالے سے تمہیں اجر عطا کرے۔ سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں وہاں سے روانہ ہوا میری ملاقات انیس سے ہوئی اس نے دریافت کیا: تم نے کیا کیا۔ میں نے کہا: میں نے یہ کیا کہ اسلام قبول کر لیا اور تصدیق کر دی، تو اس نے کہا: مجھے بھی تمہارے دین سے بے رغبتی نہیں ہے میں بھی اسلام قبول کرتا ہوں اور میں بھی تصدیق کرتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر ہم اپنی والدہ کے پاس آئے (انہیں اسلام کی پیشکش کی) تو انہوں نے کہا: مجھے بھی تمہارے دین سے بے رغبتی نہیں ہے میں بھی اسلام قبول کرتی ہوں اور تصدیق کرتی ہوں پھر ہم وہاں سے سوار ہو کر اپنی قوم بنو غفار میں آئے، تو ان کے نصف حصے نے اسلام قبول کر لیا۔ سیدنا ایماء بن رحضہ رضی اللہ عنہ ان کی امامت کیا کرتے تھے وہ اس قبیلے کے سردار تھے جبکہ نصف لوگوں نے یہ کہا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئیں گے، تو ہم اسلام قبول کر لیں گے، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لے آئے تو باقی رہ جانے والے نصف حصے نے بھی اسلام قبول کر لیا پھر اسلم قبیلے کے لوگ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینہ منورہ) حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (بنوغفار قبیلے کے لوگ) ہمارے بھائی ہیں، جس طرح انہوں نے اسلام قبول کیا ہے، اسی طرح ہم بھی اسلام قبول کرتے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس موقع پر) یہ فرمایا: غفار قبیلے کی اللہ تعالیٰ مغفرت کرے اور اسلم قبیلے کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔