کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس وجہ کا جس کی بنا پر عائشہ رضی اللہ عنہا کو ام عبد اللہ کہا جاتا تھا
حدیث نمبر: 7117
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : لَمَّا وُلِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ أَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَفَلَ فِي فِيهِ ، فَكَانَ أَوَّلَ شَيْءٍ دَخَلَ جَوْفَهُ ، وَقَالَ : " هُوَ عَبْدُ اللَّهِ ، وَأَنْتِ أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ " ، فَمَا زِلْتُ أُكَنَّى بِهَا وَمَا وَلَدْتُ قَطُّ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں جب عبداللہ بن زبیر پیدا ہوا، تو میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے منہ میں اپنا لعاب دہن ڈالا یہ وہ پہلی چیز تھی جو اس کے منہ میں داخل ہوئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عبداللہ ہے اور تم ام عبداللہ ہو اس کے بعد میری مسلسل یہی کنیت رہی حالانکہ میری کوئی اولاد نہیں ہے۔