کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس خبر کا جو ہمارے پہلے ذکر کردہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 7108
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا بْنُ جَنَّادٍ الْحَلَبِي ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ : " جَاءَ عَائِشَةَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا ، قَالَتْ : لا حَاجَةَ لِي بِهِ ، قَالَ عَبْدُ الرَّ14873حْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ : إِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنْ صَالِحِي بَنِيكِ ، جَاءَكِ يَعُودُكِ ، قَالَتْ : فَأْذَنْ لَهُ ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا ، فَقَالَ : يَا أُمَّاهُ ، أَبْشِرِي فَوَاللَّهِ مَا بَيْنَكِ وَبَيْنَ أَنْ تَلْقَيْ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالأَحِبَّةَ إِلا أَنْ تُفَارِقَ رُوحُكِ جَسَدَكِ ، كُنْتِ أَحَبَّ نِسَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهِ ، وَلَمْ يَكُنْ يُحِبُّ رَسُولُ اللَّهِ إِلا طَيْبَةً ، قَالَتْ : وَأَيْضًا ، قَالَ : هَلَكَتْ قِلادَتُكِ بِالأَبْوَاءِ ، فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً ، فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا ، فَكَانَ ذَلِكَ بِسَبَبِكِ وَبَرَكَتِكِ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ لِهَذِهِ الأُمَّةِ مِنَ الرُّخْصَةِ ، فَكَانَ مِنْ أَمْرِ مِسْطَحٍ مَا كَانَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ بَرَاءَتَكِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَمَاوَاتٍ ، فَلَيْسَ مَسْجِدٌ يُذْكَرُ فِيهِ اللَّهُ إِلا وَشَأْنُكِ يُتْلَى فِيهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَأَطْرَافَ النَّهَارِ ، فَقَالَتْ : يَا ابْنَ عَبَّاسٍ دَعْنِي مِنْكَ وَمِنْ تَزْكِيَتِكَ ، فَوَاللَّهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ نَسْيًا مَنْسِيًّا " .
ابن ابوملیکہ بیان کرتے ہیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھے ان سے ملاقات کی ضرورت نہیں ہے۔ سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ابن عباس! آپ کے نیک بیٹوں میں سے ایک ہیں وہ آپ کی عیادت کرنے کے لئے آپ کے پاس آئے ہیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں اجازت دے دی وہ اندر آئے انہوں نے کہا: اے امی جان آپ کے لئے خوشخبری ہے اللہ تعالیٰ کی قسم آپ کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات اور دیگر محبوب لوگوں سے آپ کی ملاقات کے درمیان صرف اتنا فاصلہ رہ گیا ہے کہ آپ کی روح آپ کے جسم سے جدا ہو جائے آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صرف کسی پاکیزہ چیز سے ہی محبت کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (اور بھی میرے اندر کوئی خوبی ہے؟) تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کی: ابواء کے مقام پر آپ کا ہار گم ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی، تو لوگوں کو پانی نہیں ملا، تو انہوں نے پاکیزہ مٹی کے ذریعے تیمم کر لیا یہ آپ کے سبب اور آپ کی برکت کی وجہ سے تھا اللہ تعالیٰ نے اس امت کے لئے یہ رخصت نازل کی پھر مسطح کا جو معاملہ تھا وہ بھی تھا اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کے اوپر سے آپ کی برأت کا حکم نازل کیا کوئی بھی مسجد ایسی نہیں ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا جاتا ہو اس میں آپ کے معاملے سے متعلق آیات کی تلاوت بھی رات دن کی جائے گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے ابن عباس! تم میری اتنی تعریفیں نہ کرو اللہ کی قسم میری تو یہ خواہش ہے کہ کاش میں کوئی بھولی بسری چیز ہوتی۔