حدیث نمبر: 7092
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ ، يَقُولُ : فَزِعَ النَّاسُ بِالْمَدِينَةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَفَرَّقُوا ، فَرَأَيْتُ سَالِمًا مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ احْتَبَى بِسَيْفِهِ ، وَجَلَسَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ فَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي فَعَلَ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَآنِي وَسَالِمًا ، وَأَتَى النَّاسُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، أَلا كَانَ مَفْزَعُكُمْ إِِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ؟ أَلا فَعَلْتُمْ كَمَا فَعَلَ هَذَانِ الرَّجُلانِ الْمُؤْمِنَانِ " .
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گھبراہٹ کا شکار ہو گئے، تو وہ ادھر ادھر تقسیم ہو گئے میں نے سیدنا ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے غلام سالم کو دیکھا کہ اس نے تلوار نکال لی ہے اور مسجد میں بیٹھا ہے، جب میں نے اسے دیکھا، تو میں نے بھی ویسا ہی کیا جیسا اس نے کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے آپ نے مجھے اور سالم کو دیکھا پھر اور لوگ بھی آ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! کیا وجہ ہے کہ تم گھبرا کر اللہ اور اس کے رسول کی طرف نہیں آئے اور کیا وجہ ہے کہ تم نے وہ کیوں نہیں کیا جو ان دو مومن آدمیوں نے کیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب إخباره ﷺ عن مناقب الصحابة رجالهم ونسائهم بذكر أسمائهم رضوان الله عليهم أجمعين / حدیث: 7092
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح الأدب المفرد» تحت الحديث (699). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 7050»